خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 308 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 308

خطبات ناصر جلد دوم ۳۰۸ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء گے اور یہ بات تیرے اس غرور اور تکبر اور خود نمائی کے نتیجہ میں ہوگی یہی حالت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو کم فہم اور کج فہم ہیں اور جو دعا کی قبولیت کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلوں نے بھی درود بھیجے اور آپ کی اُمت نے تو آپ پر اس کثرت سے درود بھیجا اور آپ کے لئے دعائیں کیں کہ اس کے مقابلہ میں کسی اور فر دکو پیش نہیں کیا جاسکتا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الخ کی کیفیت یعنی انتہائی تڑپ کہ غیر مومن ایمان لائیں اور مومن مقامات تقرب حاصل کریں اس بات کی متقاضی تھی کہ جماعت مومنین ہمیشہ آپ پر درود بھیجتی رہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام عبودیت ہے جو مقام تدلی ہے جس کے نتیجہ میں آپ کی ایک شان مقام اُسوہ کا حصول ہے وہ تقاضا کر رہا تھا کہ ساری اُمت آپ کے لئے دعائیں کرتی اور ساری اُمت جو دعائیں کر رہی ہے ان میں سے اکثر دعا ئیں یہ ہوتی ہیں کہ اے خدا! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن مقصد کو لے کر اس دنیا میں آئے تھے ان مقاصد میں آپ کو کامیاب کر اسلام ہمیشہ غالب رہے اگر کبھی تنزل کا دور آئے تو پھر غلبہ کے سامان اس کے لئے پیدا کر دے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات جو ہر آن ہم پر جاری ہیں وہ فیوض جن کے بغیر ہماری روحانی زندگی ایک لحظہ کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتی ہم میں ان کا احساس باقی رہے اور ہم ہمیشہ آپ کے شکر گزار غلام بنے رہیں ہمارے دلوں میں آپ کی جو محبت ہے وہ قائم رہے اور ع تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے اے ہمارے رب ! تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی رفعتوں میں ہمیشہ بلند سے بلند تر کرتا چلا جاتا کہ آپ کی ان رفعتوں کے طفیل ہمیں بھی کچھ مزید رفعتیں حاصل ہو جا ئیں غرض مسلمان اسلام کے غلبہ کے لئے قرآن کریم کی تعلیم کے قائم ہونے کے لئے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کے قیام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مقاصد کے پورا ہونے کے لئے دعا کرتا ہے جو مقاصد لے کر آپ دنیا میں آئے اور جب یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ساری اُمت چودہ سو سال سے دعاؤں میں مشغول ہے اور ایک دعا ان میں سے یہ ہے کہ