خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 292 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 292

خطبات ناصر جلد دوم ۲۹۲ خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۶۸ء بیماریوں کے لئے یہ نسخہ بتا یا گیا تھا۔بہر حال میں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ دیکھا کہ چار دن کے اندر قارورہ کی شکر جو نہارا ڈھائی فیصد تھی اس مقدار سے گر کر اس کے معمولی آثار باقی رہ گئے اور اتنی کم رہ گئی کہ فیصد کے حساب سے اس کی پیمائش کرنا بھی مشکل ہے اور خون کی شکر ( گلوکوز ) ۲۱۰ سے گرکر ۱۳۵ پر آگئی جب اتنی جلد فرق پڑا تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ ابھی دوائی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا ہے۔ہر چار دن کے بعد ٹیسٹ ہوتا تھا آخری ٹیسٹ انہوں نے ہمارے آنے سے پہلے جمعرات کو تجویز کیا تھا ہم نے وہاں سے ہفتہ کی شام کو چلنا تھا لیکن جمعرات سے ایک یا دو روز (اغلباً ایک دن پہلے میں نے جان بوجھ کر کچھ بے احتیاطی کی یعنی میٹھا کھا لیا اور کچھ عدم علم کی وجہ سے بے احتیاطی ہوگئی میری بیٹی نے مجھے کہا کہ میں نے بغیر میٹھے کے آئس کریم تیار کی ہے میں نے کہا اچھی بات ہے کھا لیتے ہیں اس نے مجھے بتایا تھا کہ میں نے اس میں مصنوعی میٹھا ڈالا ہے چنانچہ میں نے وہ آئس کریم کھالی لیکن بعد میں وہ کہنے لگی کہ میں نے اس میں تھوڑا سا میٹھا بھی ڈالا تھا اس طرح میٹھا اندازہ سے زیادہ ہو گیا اور ابھی پوری طرح آرام بھی نہیں آیا تھا گو اللہ تعالیٰ نے فضل کیا تھا مگر بیماری ابھی کنارے پر کھڑی تھی اس لئے جمعرات کو شکر نہار ۱۳۰ ہوگئی ڈاکٹر صاحب نے کہا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے دو دن آپ پورا پر ہیز کر لیں ہم ہفتہ کے روز آخری ٹیسٹ لے لیں گے نہار بھی اور کھانے کے دو گھنٹے بعد بھی چنانچہ ہفتے کے روز ٹیسٹ ہوا تو نہار شکر ۱۱۳ تھی اور کھانے کے دو گھنٹے بعد ( جو ڈاکٹر صاحب کے کہنے کے مطابق ۱۴۰ بھی ہوتی تب بھی ٹھیک تھا یہ مقدار نارمل ہے بیماری کی شکل نہیں) وہ اتنی گر گئی تھی کہ کھانے کے دو گھنٹے بعد جو ٹیسٹ ہوا اس میں وہ ۹۵ تھی۔اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ ذیا بیطس کی تکلیف بھی دور ہوگئی اور پیٹ کی تکلیف جو تھی اس کی دوائی میں نے کھائی تو اس میں بھی فرق پڑ گیا لیکن دو چار دن کے بعد وہ بیماری پھر عود کر آئی چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے دوبارہ دوائی دی جس کا سات دن کا کورس کل ہی ختم ہوا ہے اس سے تکلیف میں پھر فرق پڑ گیا ہے اللہ تعالیٰ چاہے اور وہ ہماری دعاؤں کو قبول کر لے تو وہ اپنے فضل