خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 209 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 209

خطبات ناصر جلد دوم ۲۰۹ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۶۸ء ۲۴ سب اللہ تعالی ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔ے۔ساتویں معنی اس آیت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو سچا دین جو نجات کا باعث ہوتا ہے اسلام ہے۔۔آٹھویں معنی اس آیت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیز شخص ہوتا ہے۔ان معانی پر میں نے نسبتا تفصیلی ( بہت تفصیل سے بھی نہیں اور بہت اختصار سے بھی نہیں ) روشنی ڈال کر اپنے بچوں اور بھائیوں کو بتایا تھا کہ کس طرح علم کا ایک دریا ہے جو بہتا چلا جاتا ہے چونکہ اور بھی بہت سے معانی ہیں جو رہ گئے ہیں اس لئے ان میں سے بعض کے متعلق میں اس خطبہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ کے یہ معنی ہیں۔۹ اسلام اس بات کا نام ہے کہ قرآن شریف کی اتباع سے خدا کو راضی کیا جاوے۔“ جو دین مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا ہے اور جو شریعت کامل ہے وہ قرآن کریم میں ہے پس اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ میں یہ فرمایا کہ اگر تم اپنے رب کو راضی کرنا چاہتے ہو اگر تم اس کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہو اگر تم اس سے تعلق محبت قائم کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے صرف یہی راہ ہے کہ قرآن کریم کی پوری اتباع کرو اور اس یقین پر قائم ہو جاؤ کہ ہماری تمام روحانی، اخلاقی، دینی اور دنیوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے سب سامان قرآن کریم میں موجود ہیں اور اگر ہم ان روحانی اسباب سے فائدہ اٹھا ئیں اور ان پر عمل کریں تو ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں۔اس کی تفصیل میں جانے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ پہلوں نے اپنے رنگ میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مقام کے مطابق اس کی بڑی وضاحت سے اپنی کتب اور