خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 210
خطبات ناصر جلد دوم ۲۱۰ خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۶۸ء تقاریر میں تشریح کی ہے قرآن کریم ایک کامل اور مکمل شریعت ہونے کی وجہ سے ہماری تمام روحانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے تمام ان راستوں کی نشان ( دہی ) کرتا ہے جن پر چلنا ضروری ہے ہر وہ بات ہمیں سکھاتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے اور ہر وہ بات ہمارے سامنے وضاحت سے بیان کرتا ہے کہ جس کو اگر ہم اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کومول لینے والے ہو جا ئیں یعنی قرآن کریم نے کامل اور مکمل طور پر احکام کو بیان کیا ہے۔اوامر کو بھی کھول کر ہمارے سامنے رکھا ہے اور نواہی پر بھی روشنی ڈالی ہے یعنی اس نے بتایا ہے کہ یہ کام نہیں کر ناور نہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا غرض قرآن شریف کی اتباع اور صرف قرآن شریف کی اتباع ہی ہے جس سے ہم اپنے رب کو راضی کر سکتے ہیں۔۱۰۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دسویں تفسیری معنی إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الاسلام کے یہ کئے ہیں کہ جاوے۔اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجز اس قانون کے جو مقرر ہے ادھر ادھر بالکل نہ پہلے معنی یہ تھے کہ جو راستہ دکھایا گیا ہے اس پر چلو اب دوسرے معنوں میں بتایا گیا ہے گو یہ معنی اپنی ترتیب کے لحاظ سے دسویں ہیں لیکن نویں معنی اور یہ معنی دونوں پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں) کہ قرآن کریم کے علاوہ کسی اور راہ کو اختیار نہ کریں، نہ عقیدہ میں بدعت ، نہ عبادت میں بدعت ، نہ عمل میں بدعت۔قرآن کریم سے باہر نہ جائیں جو صراط مستقیم قرآن کریم نے بتایا ہے اس کے علاوہ کسی راہ کو اختیار نہ کریں اپنی طرف سے اپنے پر مشقتیں نہ ڈالیں ہرقسم کی روحانی، ایمانی عملی بدعتوں سے پر ہیز کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے پہلے بھی بعض بزرگ ایسے ہوئے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علاقہ میں بدعات کے خلاف جہاد کرنے کا حکم فرمایا اور توفیق عطا کی کہ وہ کامیابی کے ساتھ بدعات کے خلاف جہاد کریں بدعت کا تعلق سارے احکام قرآن کے ساتھ ہو جاتا ہے بعض بدعات ایسی ہیں جو ہوائے نفس یا شیطانی اثر کے نیچے نماز کے ساتھ لگ گئی ہیں اسی طرح روزے