خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 176
خطبات ناصر جلد دوم ۱۷۶ خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۶۸ء کے دن اللہ تعالیٰ کے قہر سے بچنا چاہتے ہو اور اگر تم اس کے پیار اور اس کی محبت سے زیادہ حصہ لینا چاہتے ہو تو اس بات کو یا درکھو کہ تمہارا خدا ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہے وہ ایک مالک کی حیثیت سے جس کے خزانے لامحدود ہیں غیر محدود جزا دے تو اس کو کوئی یہ نہیں کہنے والا کہ تم نے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا کیونکہ انصاف کا تقاضہ تو وہاں پیدا ہوتا ہے کہ جو مال دیا جائے وہ کسی اور کا ہو مثلاً اگر ایک جج فیصلہ یہ دے کہ زید نے بکر کا نقصان تو سو روپیہ کا کیا تھا لیکن میں اپنی طرف سے اس کو دس ہزار روپیہ زید کے مال میں سے دیتا ہوں تو نا انصافی کرنے والا ہے لیکن اگر مالک ہو خود مثلاً اس دنیا میں بڑی ناقص مثال ہے لیکن سمجھانے کے لئے وہی مثال دی جاسکتی ہے کہ آپ کا ایک نوکر ہے وہ سو روپیہ تنخواہ پر مقرر ہے ایک دن وہ اس کو بلا کر کہتا ہے کہ تنخواہ تو تمہاری سو ہے لیکن میں اپنی طرف سے اپنے مال میں سے تمہیں سارے سال کی گندم دے دیتا ہوں یا ہزار روپیہ انعام دے دیتا ہوں کیونکہ تمہاری لڑکی کی شادی ہونے والی ہے تو کوئی شخص نہیں کہے گا کہ بڑا ظلم کرنے والا ہے اور غیر منصف ہے یہ مالک۔تو اللہ تعالیٰ کے چونکہ خزانوں کی کوئی انتہا نہیں وہ غیر محدود ہیں اس واسطے بحیثیت مالک اگر وہ ابدی جنتیں انعام میں دے تو کسی کا حق نہیں مارا گیا اس نے بحیثیت مالک ہمیں دیا لیکن خوف اور قلق بھی بڑا دل میں پیدا ہوتا ہے جب انسان یہ سوچتا ہے کہ جب ہمارا کچھ ہے ہی نہیں اور ہمارا کوئی حق نہیں بنتا تو اس کا نتیجہ تو یہ ہوا کہ ہم نے اپنی طرف سے جو نیکیاں کیں خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے جو اعمال صالحہ بجالائے وہ بھی دراصل ہماری نیکیاں اور ہمارے اعمالِ صالحہ نہیں کیونکہ ان نیکیوں کے کرنے کی طاقت ، صدقہ و خیرات جو ہم نے دیا اس مال کی ملکیت تو رب کی تھی ہمارا تو نہیں تھا کچھ بھی تو انسان خود کو فی الحقیقت بالکل تہی دست پاتا ہے جب مالک یوم الدین کی صفت سامنے آتی ہے اور اس وقت اس کے دل میں یہ احساس پختہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر نہ مغفرت کا حصول ممکن نہ ابدی جنتوں اور اس کی رضا کا حصول ممکن ہے تو یہ تہی دست ہونے کا احساس اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی صفت انتہا ہے ان چاروں امہات الصفات کی، پیدا کیا، ترقی دی ، نشو نما کے سامان پیدا کئے اس دنیا میں بے شمار، ان گنت جیسا کہ خود قرآن نے