خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 175

خطبات ناصر جلد دوم ۱۷۵ خطبہ جمعہ ۱۴؍جون ۱۹۶۸ء نہ یہاں نہ وہاں لیکن وہاں تو اس کے جلوے اس قدر عظمت اور جلال اور شان کے ساتھ ظاہر ہوں گے کہ کسی شخص کو یہ جرات ہی نہ ہو سکے گی کہ وہ سمجھے کہ میرا کوئی حق ہے جو مجھے ملنا چاہیے۔حق کوئی نہیں کسی کا جس نے پیدا کیا سارے حقوق اسی کے ہیں جو ہمارا رب ہے جس کی رحمانیت کے ہم نے جلوے دیکھے ہیں جس کی رحیمیت کے پیار کو ہم نے محسوس کیا ہے جب اس کے سامنے ہم جائیں گے تو ہماری روح پکار رہی ہو گی کہ اے ہمارے رب ! ہمارا تجھ پر کوئی حق نہیں لیکن ہم تیرے فضل اور تیری رحمت کے بھکاری ہیں ہم اس کی صدا دیتے ہیں کہ اپنے فضل اور رحمت سے ہمیں نواز ہماری غفلتوں کو نظر انداز کر دے تو مالک ہے اگر ہم نے تیرا گناہ کیا اگر ہم نے کچھ خطائیں کی ہیں اگر ہم نے تیری دنیا میں وہ کیا جو تو نا پسند کرتا تھا تو آج اس دنیا میں مالک کی حیثیت سے ہمیں معاف کر دے مالک کا جلوہ جو ہے وہ حقیقی معنی میں حقیقی رنگ میں اس دنیا میں نظر نہیں آتا کیونکہ یہ پردے کی دنیا ہے اس لئے ضروری تھا کہ جزا سزا کا دن مقر رکیا جاتا اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے کامل اور مکمل اور اصفی جلوے کسی قسم کی کدورت کے بغیر وہ ہم پر ظاہر ہوتے ہیں اور پھر ہمیں وہ لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے جو اس دنیا میں حاصل ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ یہاں ہے اسباب کی دنیا جلوے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں۔انسانِ ناقص اس دنیا کا جو ہے جس طرح نہایت کالے شیشوں والی عینک لگا کے سورج کی روشنی کا دسواں یا بیسواں حصہ نظر آتا ہے اسی طرح یہ اسباب کے جو مادی دنیا میں سامان ہیں ان کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کے انوار کا دسواں یا بیسواں یا چالیسواں یا پچاسواں یا سواں یا ہزارواں حصہ جتنی جتنی کسی نے زیادہ سیاہی والی عینک لگائی ہوئی ہے انسان دیکھتا ہے جو خدا تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں وہ دوسروں کی نسبت زیادہ صاف جلوے دیکھتے ہیں۔اس میں شک نہیں لیکن جو نظارے خدا تعالیٰ کی صفات کے وہ مشاہدہ کرتے ہیں وہ نظارے بھی یوم جزاء حشر کے دن کے ، جوصفات باری کے جلوے ہوں گے ان کے مقابلہ میں بہت کم درجہ کے ہیں۔لیکن بہر حال اس دنیا کی ایک جھلک ان مقتر بین الہی کو نظر آ جاتی ہے لیکن عوام کو تو کچھ بھی نظر نہیں آتا تو وہ غفلت میں بھٹکتے ہیں لیکن ایک مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اگر تم جزا سزا