خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 171
خطبات ناصر جلد دوم 121 خطبہ جمعہ ۱۴؍جون ۱۹۶۸ء اٹھانا چاہتے ہیں تو اٹھا نہیں سکتے ہم اگر تیری رحیمیت کا جلوہ دیکھنے کے قابل نہیں تو اے رحمن خدا! ہمیں اپنی رحمانیت کا جلوہ دکھا۔ان دو کے علاوہ دو اُمہات الصفات ہیں جو سورہ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔ایک پہلی صفت جور بوبیت کی صفت ہے اور ایک چوتھی صفت جو مالکیت یوم الدین کی صفت ہے۔یہ چار صفات ایسی ہیں جن کے جلوؤں کا تعلق پیدائش عالم سے لے کے جزا سزا کے دن تک پھیلا ہوا ہے۔ربوبیت کی صفت جلوہ گر ہی اس وقت ہوتی ہے جب پیدائش شروع ہو جائے جب خالق خلق کرتا ہے اور وہ تمام سامان پیدا کرتا ہے کہ اس کی مخلوق ان استعدادوں کو اپنے کمال تک پہنچا ئیں جو اس نے ان کے اندر رکھی ہیں خصوصاً انسان کے اندر بڑی استعدادیں اور قوتیں اس نے رکھی ہیں اور بڑی طاقتیں اس میں دو یعت کی ہیں تو ربوبیت کا جلوہ پیدائش کے وقت سے شروع ہو گیا۔کیونکہ رب کے معنی ہیں خالق ، پیدا کرنے والا۔جو بہت سی قوتیں اور استعدادیں بھی ہر چیز میں پیدا کرتا ہے اور درجہ بد درجہ ان کو نشوونما کرتے ہوئے اس چیز کو اپنے کمال تک پہنچا دیتا ہے دنیا کی ہر چیز جو ہے وہ ربوبیت کے اس دور میں سے گزر رہی ہے مثلاً ہیرا بنتا ہے شائد لاکھوں سال اس پہ گزرتے ہیں تب وہ ہیرے کی شکل اختیار کرتا ہے درجہ بددرجہ اس میں تبدیلیاں ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہی مٹی کے ذرات جو آپ لوگوں کی جوتیوں کے تلوے کے نیچے حقیر اور بے قیمت ہوتے ہیں وہی ذرے ہیرے کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔جس درخت کے سائے کے نیچے اس وقت ہم بیٹھے ہیں ایک چھوٹا سا بیج تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس بیچ میں جو طاقتیں اور استعداد میں رکھی تھیں اس کے نشو ونما کے اس نے سامان پیدا کئے ، بارش برسائی ، زمین کے ذروں میں ایسی قوتیں پیدا کیں جو اس درخت کی ٹہنیاں اور یہ لمبی لمبی سوئیوں کی طرح کے جو پیتے ہیں وہ بن سکیں اگر زمین کے ذروں میں یہ طاقت نہ ہوتی تو درخت یہ شکل اختیار نہ کرتا اور پھر یہ بڑھتے بڑھتے اپنی طاقت کے مطابق اپنی بلندیوں کو پہنچ جائے گا اور اگر انسان اسے نہ کاٹے تب ہی اس کی قوتوں پر فنا آجائے گی لیکن اس کی نشوونما کے سارے سامان اس کی زندگی کے لئے جو درکار تھے وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیئے اور یہ ربّ ہے اس کے جلوے