خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 172 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 172

خطبات ناصر جلد دوم ۱۷۲ خطبہ جمعہ ۱۴؍جون ۱۹۶۸ء ہمیں ہر چھوٹی اور بڑی چیز میں نظر آتے ہیں۔اسلام نے رب کا تخیل جو ہمیں دیا ہے وہ یہ نہیں کہ اللہ نے پیدا کیا اور پھر آرام کرنے لگ گیا یا دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا اور پیدائش کے ساتھ جو پہلے کر چکا ہے اس کا ہر وقت زندہ تعلق قائم نہ رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت کی جو صفت ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک چھوٹے سے فقرے میں بڑی بنیادی چیز ہمیں بتائی ہے آپ فرماتے ہیں کہ ربوبیت کا فیضان تمام کائنات کی جان ہے پھر فرماتے ہیں ایک لمحہ کے لئے یہ فیضان منقطع ہو جائے تو تمام عالم نابود ہو جائے تو اس نے پیدا کیا، نشوونما کے سامان پیدا کئے اور ہر وقت ایک زندہ تعلق اپنی مخلوق کے ساتھ اس نے قائم رکھا ہے اگر ربوبیت کا یہ تعلق ایک لحظہ کے لئے بھی منقطع ہو جائے مخلوق کے ساتھ تو وہ قائم نہ رہے جس طرح وہ نیست سے ہست ہوئی تھی ہست سے نیست ہو جائے فنا ہو جائے فوری طور پر۔تو رب کا تعلق ہر وقت اور ہر آن ہر چیز سے ہے جس کو اُس نے پیدا کیا ہے۔یہ تعلق انسان کے ساتھ بھی ہے اور انسان کو اس نے بڑی استعداد میں دیں اور اپنے قرب کے لئے اس نے اسے پیدا کیا اور اپنی صفات کا مظہر بنے کی قابلیت اس کے اندر رکھی اور ہم دیکھتے ہیں کہ بنی نوع انسان کو بحیثیت ایک نوع کے ایک بڑے ہی نچلے درجے سے آہستہ آہستہ اٹھا کر اس نے اس مقام پر پہنچایا کہ جہاں انسان کامل کی پیدائش ممکن ہو سکتی تھی اور انسان کامل کی پیدائش کر دی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور ایک کامل کتاب آپ کے ذریعہ بنی نوع انسان کو ملی انسانی شعور اور انسانی عقل آپ کے زمانے میں اپنے کمال کو پہنچا اور اس کمال کو قائم رکھنے کے لئے دنیا کی تدبیر ، جس طرح اور تدبیریں اس نے کیں، قرآن کریم کی شکل میں انسان کو دی کہ اگر اس پر انسان غور کرتا رہے اور اس کے احکام کی پیروی کرے تو انسان کی عقل بھی اپنے معراج پر قائم رہے گی اور اس کی روحانیت بھی اپنی رفعتوں سے نیچے نہیں کرے گی۔رب کی جور بوبیت ہے اس کے جلوے انسان سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور مٹی کے ذرات سے بھی تعلق رکھتے ہیں، ہر مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں اور اس خلق کا عالمین کی پیدائش کا خلاصہ اور