خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 6

خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۵/جنوری ۱۹۶۸ء میری آواز پہنچ جائے یا جن کو پہلے بھی اس بات کا علم ہو یا یاددہانی کرائی گئی ہو وہ ادنی ادنی حرجوں کی پروانہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس جلسہ میں شامل ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش کو پورا کریں اور اپنے لئے برکات کے سامان پیدا کرلیں۔(۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان اقتباسات میں پانچویں بات ہمیں یہ بتائی ہے کہ عارضی فائدہ اس جلسہ سالانہ کا یہ بھی ہے کہ باہمی ملاقات کے مواقع میسر آتے ہیں۔چاروں طرف سے (صرف ہمارے ملک کے چاروں اطراف سے ہی نہیں بلکہ دنیا کی چاروں اطراف سے ) لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں کہیں سے کم کہیں سے زیادہ تو مواقع میسر آتے ہیں اس بات کے کہ آپس میں ملیں تبادلہ خیال کریں محبت و پیار کا اظہار کریں اور ہم اخوت و محبت کے جو جذبات ایک دوسرے کے لئے اپنے دل میں رکھتے ہیں ان میں زیادتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے ہم پہلے سے زیادہ وارث بنیں اور اس طرح رشتہ تو ڈ دو تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں یہ فرمایا کہ اسلام نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیا ہے لیکن صرف کہنے سے بھائی بھائی تو نہیں بنتے۔جب تک ایسے مواقع میسر نہ آئیں جب وہ بھائی بھائی کی طرح آپس میں مل رہے ہوں اور بھائی بھائی کی طرح اپنے نفسوں کی چھوٹی چھوٹی عادتوں کو قربان کر کے دوسروں کے آرام کا اور سکون کا اور راحت کا انتظام کر رہے ہوں تو یہ ایک عارضی فائدہ بھی ہے جو اس جلسہ سے اُٹھایا جانا چاہیے۔(۶) چھٹی بات آپ نے یہ بیان فرمائی کہ جو دوست اس عرصہ میں اس دار فانی سے گذر چکے ہوں ان کے لئے دعائے مغفرت اور خصوصاً موصی صاحبان کے لئے دعائے مغفرت کا موقع ہوتا ہے۔اسی وجہ سے کثرت سے دوست بہشتی مقبرہ جاتے ہیں اور بچھڑے ہوئے بہنوں اور بھائیوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔لیکن جن کو اس طرف پہلے خیال نہیں آیا ان کو اب میں متوجہ کرتا ہوں کہ جلسہ کے ایام میں کچھ وقتوں کو اس غرض کے لئے بھی فارغ رکھیں کہ وہ بہشتی مقبرہ میں جائیں اور وہاں ان موصی اور موصیات کے لئے دعا کریں جو وہاں مدفون ہیں اور وہیں اپنے تمام ان بھائیوں کے لئے دعا کریں جو اس دنیا کو اس عرصہ میں چھوڑ چکے ہیں۔ہم سے جدا ہو گئے