خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 125 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 125

خطبات ناصر جلد دوم ۱۲۵ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء واضح ہے لیکن دنیوی نقطۂ نگاہ سے ایک حد تک وہ ربوبیت میں سے حصہ لیتے ہیں خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جو روحانی ربوبیت کرنے والا یا جسمانی ربوبیت کرنے والا ہوا سے ایسی بات نہ کہو جو اُف میں شامل ہو بلکہ احترام کرو پھر اسلام یہ کہتا ہے کہ اپنے سے بڑوں کا احترام کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو یہ احترام اور شفقت فعل سے بھی ہوتی ہے اور زبان سے بھی ہوتی ہے اگر کوئی شخص فعل سے تو بڑی شفقت کرے لیکن زبان کو غلط راہوں پر چلائے وہ بے باک وار کرنے والی ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسے شخص سے میرا کوئی تعلق نہیں فرما یا کیس مینا۔پس ہزاروں احکام ہیں جن کا زبان سے تعلق ہے جن میں سے بعض کے متعلق میں نے اپنے ان دو خطبوں میں آپ دوستوں کے سامنے کچھ بیان کیا ہے لیکن جو کامل اور مکمل تعلیم ہمیں دی گئی ہے سب کو اپنے سامنے رکھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے اور بنیادی چیز یہ ہے کہ اگر خدا کا بندہ بننا ہو ، اس کے عباد میں شامل ہونا ہو تو احسن قول کی پیروی کرنا ضروری ہے اپنی طبیعت ایسی بنانا چاہیے کہ اَحْسَن - کے سوا منہ سے کوئی بات ہی نہ نکلے خدا کرے کہ وہ ہم سب کو اس بات کی توفیق دے کہ وہ ہر راہ سے ہمیں اپنے بندوں میں شامل کرے اور ہم اس کے حقیقی بندے بن جائیں اور ہم سے کوئی بات ایسی سرزد نہ ہو جو ہمیں اس کے گروہ، اس کے عباد سے نکالنے والی ہو۔(روز نامه الفضل ربوه ۴ رمئی ۱۹۶۸ء صفحه ۱ تا ۴ )