خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 124 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 124

خطبات ناصر جلد دوم ۱۲۴ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء پس پہلے دل پیدا کرو۔اگر دلوں پر اثر اندازی چاہتے ہو تو عملی طاقت پیدا کرو کیونکہ عمل کے بغیر قولی طاقت اور انسانی قوت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔زبان سے قیل و قال کرنے والے تو لاکھوں ہیں۔تم میری بات سُن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔اسی سے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صداقت ثابت ہوتی ہے کیونکہ جو کامیابی اور تَأْثِير فِي الْقُلُوب ان کے حصہ میں آئی اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ میں نہیں اور یہ سب اس لئے ہوا کہ آپ کے قول اور فعل میں پوری مطابقت تھی۔یہ تو چند حوالے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب اور آپ کی تحریریں اور ریریں اور ملفوظات ان باتوں سے بھری ہوئی ہیں۔پس خدا کے لئے قرآن کریم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو اور جیسا کہ میں نے کہا ہے ہمارے ہر عضو پر اللہ تعالیٰ نے کچھ پابندیاں عائد کی ہیں اور زبان ایک بنیادی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ ہمارے ہر عمل کو یہ پاک سے پاک تر بھی بنا سکتی ہے اور ہمارے ہر عمل کو یہ ضائع بھی کر سکتی ہے مثلاً ایک شخص غربا میں مال تقسیم کرتا ہے لیکن بعد میں مَن اور آڈی کا طریق اختیار کرتا ہے کروڑوں روپوں کو اس طرح زبان کی ایک جنبش سے ضائع کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی درگاہ سے وہ روپیہ دھتکارا جاتا اور اس کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتا۔احترام ہے اس کا اظہار بھی زبان سے ہوتا ہے اور وہ جن کا احترام کرنا اور جن کی عزت کرنا اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے فرض کیا ہے ان کے حق میں احترام کے سوا کوئی اور بات منہ سے نکالنا فعلی نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ باپ روحانی ہو یا جسمانی اس کے سامنے اف نہیں کرنی کیونکہ ربوبیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو شریک کیا ہے ہر ماں باپ صفت ربوبیت میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لیتے ہیں خواہ وہ اچھے ماں باپ نہ بھی ثابت ہوں جو اچھے ماں باپ ہوں وہ تو بہت سا حصہ اس دنیا کی ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے لیتے ہیں اگر چہ انسان کی ربوبیت اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تو آپس میں مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا یہ تو بالکل