خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 123

خطبات ناصر جلد دوم ۱۲۳ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرا یہ میں دوست بنا دیتی ہے۔پس جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ اَحْسَنُ (النحل : ۱۲۶) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔يُؤْتى الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ (البقرة :٢٧٠)- ۱۳ پھر فرماتے ہیں:۔سو تم اس وقت سن رکھو کہ تمہارے فتح مند اور غالب ہو جانے کی یہ راہ نہیں کہ تم اپنی خشک منطق سے کام لو یا تمسخر کے مقابل پر تمسخر کی باتیں کرو یا گالی کے مقابل پر گالی دو کیونکہ اگر تم نے یہی راہیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہو جا ئیں گے اور تم میں صرف باتیں ہی باتیں ہوں گی جن سے خدا تعالیٰ نفرت کرتا ہے۔سو تم ایسا نہ کرو کہ اپنے پر دو لعنتیں جمع کر لو ایک خلقت کی دوسری خدا کی۔۔۔یاد رکھنا چاہیے کہ جن آیات پر میں نے خطبہ دیا تھا کہ عَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ( حم السجدۃ: ۳۴) آپ کے ارشادات انہی آیات کی تفسیر ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔وو 1766 چاہیے کہ اسلام کی ساری تصویر تمہارے وجود میں نمودار ہو اور تمہاری پیشانیوں میں اثر سجود نظر آوے اور خدائے تعالیٰ کی بزرگی تم میں قائم ہو۔اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہر گز اس کو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔توحید پر قائم رہو اور نماز کے پابند ہو جاؤ اور اپنے مولی حقیقی کے حکموں کو سب سے مقدم رکھو اور اسلام کے لئے سارے دُکھ اُٹھا وَ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (ال عمران : ١٠٣) اسی طرح آپ فرماتے ہیں :۔اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں فلاح دارین حاصل ہو اور لوگوں کے دلوں پر فتح پاؤ تو پاکیزگی اختیار کرو۔عقل سے کام لو اور کلام الہی کی ہدایات پر چلو۔خود اپنے تئیں سنوارو اور دوسروں کو اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاؤ جب البتہ کامیاب ہوجاؤ گے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے۔سخن کز دل برون آید نشیند لا جرم بر دل