خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 110 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 110

خطبات ناصر جلد دوم 11۔خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۶۸ء علمی اور عقلی دلائل ان لوگوں کے سامنے رکھو جو اپنے رب کو پہچانتے نہیں۔دوسرے معنی حکمت کے قرآن کریم اور اس کے مضامین اور اس کی تفسیر کے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ قرآن کریم میں بہت سے روحانی علمی اور عقلی دلائل رکھے گئے ہیں اور وہی مضبوط تر اور بہتر دلائل ہیں یعنی تم قرآن کریم کے ذریعہ اپنے ربّ کے راستہ کی طرف مخلوق خدا کو بلاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے (اور یہ تیسرے معنی ہیں ) کہ الصَّمْتُ حُكُمْ وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ (مفردات راغب میں ہے کہ یہاں حکم سے مراد حکمت ہے ) اور آپ نے یہ فرمایا کہ خاموشی بھی بعض دفعہ حکمت میں شامل ہوتی ہے لیکن کم ہیں جو اسے سمجھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔جس وقت مخالف اسلام اپنی مخالفت میں بڑھ جاتا ہے اور امن کی فضا کو مکدر کر کے فتنہ و فساد کو پھیلانا چاہتا ہے اُس وقت اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بالحكمة کے یہ معنی ہوں گے کہ اس کے جواب میں خاموشی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ کی طرف تم بلاؤ کیونکہ خاموشی بھی ایک بلیغ زبان ہے جو بسا اوقات بڑی ہی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔(عدد جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں ) حکمت کے ایک معنی مَعْرِفَةُ الْمَوْجُودَاتِ وَفِعْلُ الْخَيْرَاتِ کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مخلوق پیدا کی ہے اس کا صحیح علم حاصل کرنا اور نیکیاں بجالا نا یعنی نیک کام اور حسنِ سلوک کرنا۔پس اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ ہر ایک مخاطب سے اس کی طبیعت ، ذہنیت اور اس کے علم اور اس کی فراست کے مطابق بات کرو ورنہ وہ سمجھ نہیں سکے گا۔ایک عام آدمی کے سامنے اگر آپ فلسفہ کی بار یک باتیں پیش کریں تو وہ آپ کا منہ دیکھتا رہ جائے گا لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔دَعْوَت إِلَى الْحَق کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ نے اپنی ہمہ دانی کا یا فلسفی ہونے کا اظہار کرنا ہے۔دَعْوَت إِلَى الْحَقِّ کے یہ معنی ہیں کہ وہ جو راہ سے بھٹکا ہوا ہے سیدھی راہ کی طرف آجائے اور وہ اس راستہ کو بھی پہچان سکتا ہے جب جو بات آپ کریں وہ اس کو سمجھنے کے قابل بھی ہو اور یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ صرف بات کا اس کے اوپر اثر نہیں ہوگا بلکہ جو سلوک اور جو برتاؤ تمہارا اس کے ساتھ