خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 111
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۲ را پریل ۱۹۶۸ء ہوگا وہ اس پر بہت اثر انداز ہوگا اس لئے بِالْحِكْمَة نیک سلوک کے ساتھ تم اُسے اپنی طرف کھینچو اور اس کے ذہن اور فراست اور علم کے مطابق قرآنی دلائل اس کے سامنے رکھو تا کہ وہ نور جو اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں رکھا ہے اس کے دل پر اثر کرنے اور اُسے روشن کرنے والا ہو جائے۔وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ اِس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ دنیا میں جب بھی الہی سلسلے جاری کئے جاتے ہیں اس وقت ساتھ ہی ساتھ انذار کا بھی ایک پہلو ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام انبیاء کے سردار اور تمام انبیاء کے حقیقتاً ( معنوی لحاظ سے ) باپ بھی ہیں کیونکہ ہرایک نے آپ سے فیض حاصل کیا آپ کی کتاب سے فیض حاصل کیا ، جس کا ایک حصہ ان کو دیا گیا تھا آپ نے دنیا کی محبت میں اور اس فکر میں کہ دنیا اپنے رب کو پہچانتی نہیں اپنی زندگی کے تمام لمحات گزارے لیکن اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اور عین اس کی وحی کے مطابق آپ نے دنیا کو بہت ڈرایا بھی اس سے نہیں کہ اگر تم میری خدمت نہیں کرو گے تو تباہ ہو جاؤ گے بلکہ اس سے کہ اگر تم اپنے ربّ کو نہیں پہچانو گے تو اس کے غضب کا مورد ہو گے اور تباہ ہو جاؤ گے۔غرض انبیاء علیہم السلام جہاں دنیا کی بھلائی کے لئے ان کی خیر خواہی کے لئے ہر قسم کے اچھے کام کرتے ہیں وہاں ان پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو جھنجھوڑیں اور جگائیں اور کہیں کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہیں کہو گے تو وہ ناراض ہو جائے گا اور تمہیں اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑے گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انذار ( موعظہ کے اندر ہی انذار کا پہلو بھی آتا ہے کیونکہ موعظہ اس نصیحت کو کہتے ہیں جس میں انذار ملا ہوا ہو ) تو پہنچانا ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہے لیکن اچھے رنگ میں پہنچاؤ جس سے وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں ، اس سے نفرت اور فرار کے پہلو کو اختیار نہ کریں۔وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اور وہ ایک غلط رائے پر قائم ہیں اور غلط عقائد پر وہ کھڑے ہیں اس لئے تم جَادِلُهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کی ہدایت پر عمل کرو۔جدال کے معنی رائے کو موڑ دینے کے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ جو اختلافات وہ تم سے رکھتے ہیں ان اختلافات کو دور کرنے کے لئے فساد کی راہیں نہیں بلکہ امن اور صلح کی راہوں کو اختیار کرو اور اس طرح پر ان کے خیالات کے دھارے کو موڑنے کی کوشش کرو۔