خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1023 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1023

خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۲۳ خطبہ جمعہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء سورۃ فاتحہ کا حسن اور گلاب کے پھول کا حسن اپنا حسن نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں خطبه جمعه فرموده ۱۲ دسمبر ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔الْحَمدُ لِلهِ۔اللہ جس پر قرآن کریم کی رو سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے ہم ایمان لاتے ہیں وہ تمام تعریفوں کا مستحق ہے کسی چیز یا کسی وجود کی تعریف بنیادی طور پر دو وجوہ سے کی جاتی یا کی جاسکتی ہے۔ایک تو اس کے ذاتی حسن کی وجہ سے اور دوسری اس کے احسان کی قوتوں اور احسان کی صفات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ محسن حقیقی صرف اس کی ذات میں پایا جاتا ہے سورۃ فاتحہ کو ہی لیں سورۃ فاتحہ میں یہ تعلیم بیان ہوئی ہے اور جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت سے روشنی ڈالی ہے۔وہ ایک نہایت ہی حسین تعلیم ہے لیکن سورہ فاتحہ میں جو حسن انسان کو نظر آتا ہے وہ اس سورت کا ذاتی حسن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے کچھ جلوؤں نے سورۃ فاتحہ کی شکل اختیار کی ہے۔اسی طرح گلاب جو اچھا پرورش یافتہ ہو وہ نہایت خوبصورت شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے لیکن گلاب کی خوبصورتی اور اس کی دل کشی اور اس کا حُسن اس کا اپنا محسن نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بعض اور صفات گلاب کی شکل میں مجسم ہوئی ہے اور اتنا عظیم محسن گلاب کے اندر پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سورۃ فاتحہ