خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1024 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1024

خطبات ناصر جلد دوم گلاب کی شکل میں دکھائی گئی۔۱۰۲۴ خطبہ جمعہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء غرض نہ تو سورۃ فاتحہ کا حسن جو ہمارے دلوں کو موہ لیتا ہے اس کا اپنا حسن ہے اور نہ گلاب کے پھول ( جو ایک نہایت ہی خوبصورت پھول ہے ) کا حسن اس کا اپنا حسن ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں جو ایک جگہ ہمیں سورۃ فاتحہ کی خوبصورت شکل میں نظر آتے ہیں اور دوسری جگہ وہی اللہ تعالیٰ کے جلوے گلاب کی شکل میں ہمیں نظر آتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورۃ فاتحہ اور گلاب کی مماثلت کو خاصی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔میں اس وقت اس تفصیل میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ میں مختصراً جو مضمون بیان کر رہا ہوں اس کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے۔بہر حال حسن جہاں بھی اس دنیا میں ہمیں نظر آتا ہے وہ اس چیز کا ذاتی محسن نہیں جس میں وہ اس مادی دنیا میں ہمیں نظر آتا ہے۔دنیا کی مخلوق میں ( اور دنیا ساری مخلوق ہے اس میں کوئی استثنا نہیں ) خواہ ہماری نظر کسی جگہ پر پہنچے یا ہماری نظر اب تک پہنچی ہو یا ابھی تک ہماری نظر نہ پہنچی ہو یا کبھی بھی ہماری نظر نہ پہنچ سکے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا جو بھی خوبصورتی اور دل کشی اور محسن انسان کو نظر آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات یا اللہ تعالیٰ کی کسی ایک صفت کا کوئی جلوہ ہے جس نے وہ رنگ اختیار کر لیا ہے مثلاً سورج ہے اس نے ایک جہاں کو روشن کیا ہوا ہے۔پھر وہ صرف زمین کو ہی روشن نہیں کرتا بلکہ اس نے بعض اور سیاروں کو بھی روشن کیا ہوا ہے چاند کو لے لو وہ سورج سے روشنی لیتا اور پھر اس کو آگے پہنچا تا ہے لیکن یہ روشنی جو سورج میں انسان کو دکھائی دیتی ہے یہ سورج کی اپنی روشنی نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی نور ہے جو اس دنیا کو جو سورج کی دنیا ہے منور کر رہا ہے اور سورج کے پردہ میں منور کر رہا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی انسانی آنکھ کو ظاہراً نظر نہیں آسکتی۔اس مادی دنیا میں اسباب کے پردوں میں اس کی صفات انسان کے سامنے آتی ہیں اور اس طرح پر وہ نیک اور پاک اور عقل مند لوگوں کو اپنا چہرہ دکھاتا ہے۔غرض جہاں بھی کوئی خوبی یا محسن پایا جائے وہ اس چیز کا نہیں ہے جس میں وہ پایا جاتا ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حسن ہے وہ اللہ تعالیٰ کی خوبصورتی ہے اور اس وجہ سے انسان جو غور کرتا اور صحیح لائنوں پر اور صحیح طریقوں پر فکر اور تدبر کرتا اور دعاؤں سے حقیقۃ الاشیا سمجھتا ہے یہ کہنے پر مجبور