خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1022 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1022

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا احساس پیدا کر لیتا ہے یعنی جب وہ اپنے نفس کی آفات کو پہچان لیتا ہے اور اس یقین پر کھڑا ہوتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے نور کو کیسے حاصل کروں گا کیونکہ میرے نفس کا تو ہر پہلو تاریک ہے میرے نفس کا تو ہر پہلو فساد سے پر اور گند سے بھرا ہوا ہے۔اس گند اور تاریکی اور فساد کے نتیجہ میں مجھے شیطان کا وصال تو مل سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا قرب نہیں مل سکتا۔جب انسان اپنے نفس کے اندرونہ میں انتہائی تاریکیوں کا احساس پاتا ہے اس وقت وہ تڑپ کر اپنے ربّ کے حضور جھکتا اور عرض کرتا ہے کہ اے خدا ! میں اپنے طور پر تو تیرے پاس نہیں پہنچ سکتا اپنا ہاتھ آگے بڑھا اور میرے ہاتھ کو پکڑ اور مجھے اپنے سینہ سے لگالے۔یہ وہ اصفی وقت ہوتا ہے جو سارے سال کسی وقت بھی انسان کو مل سکتا ہے اور پھر اس کے بعد انسان اللہ تعالیٰ کی اتنی رحمتوں اور برکتوں کا وارث ہوتا ہے کہ دنیا اس کا اندازہ نہیں کر سکتی۔اللہ کرے کہ جس طرح اس نے اپنی رحمت تامہ کے نتیجہ میں انتہائی ظلمات کے اوقات میں اور انتہائی تاریک زمانے میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم جیسا نور اس دنیا پر نازل کیا وہاں ہم میں سے ہر ایک کے نصیب میں ہماری انفرادی لَيْلَةُ الْقَدْرِ جو ہے وہ بھی مقدر کر دے اور یہ ہر سال آتی رہے یہاں تک کہ ہمارا انجام بخیر ہو جائے اور شیطان کا کوئی خطرہ ہمارے لئے باقی نہ رہے۔اللهم آمین۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )