خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1021 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1021

خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۲۱ خطبه جمعه ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء جو وا پس منہ پر مار دی جاتی ہیں ان کے مقابلہ میں پیار کی ایک گھڑی جس میں انسان اپنے خدائے قادر کی محبت کو دیکھتا ہے ایسی گھڑی کہیں زیادہ خیر اور برکت والی ہوتی ہے۔انسان رمضان کے آخری عشرہ میں اسی مبارک گھڑی کی تلاش میں لگا رہتا ہے اور اپنے رب پر پوری طرح حسن ظن رکھتا ہے بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی غفلتوں پر اللہ تعالیٰ کی مغفرت پردہ ڈال دیتی ہے اور جن کے کام اور اعمال مقبول ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فیض کو وہ حاصل کرتے ہیں مگر یہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ یعنی مبارک گھڑی اصل لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی ایک ذیلی چیز یا بطور ضمیمہ کے ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اگر چہ ظلمات اور اندھیرے اور تاریکیاں اور گناہ اور فساد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی انتہا کو پہنچ گئے تھے اور وہ زمانہ ایک ایسی تاریک رات کے مشابہ تھا کہ جس سے زیادہ تاریک رات کسی انسان نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی مگر یہ بھی صحیح ہے کہ اسی تاریک ترین زمانہ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔اسی تاریک ترین رات میں وہ انتہائی طور پر چمکتا ہوا اور فیوض سے بھرا ہوا اور رحمتوں سے پرنور آسمان سے نازل ہوا کہ جس کے فیوض اور روحانی تأثیرات نے قیامت تک اثر کرنا تھا۔یہ تو درست ہے لیکن اس کے نتیجہ میں ہر انسان کے لئے خوشحالی کا زمانہ پیدا نہیں کیا گیا۔بلکہ ہر انسان کو یہی کہا گیا ہے کہ اسے اپنے لئے خوشحالی کا زمانہ خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے بعد خود پیدا کرنا ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے حصول کے لئے انفرادی طور پر ہمارے لئے لیلتہ القدر کی قسم کی چیزیں بنادی ہیں اور فرمایا ہے کہ کبھی تم لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کر نا اور کبھی تم ہماری یہ لیلتہ القدر جس میں ہماری قدرت کے ہر دو جلوے ظہور پذیر ہوتے ہیں ایسے وقت میں دیکھو گے جب رمضان نہیں ہو گا بلکہ اس کے علاوہ کسی دوسرے وقت میں تمہارے لئے ایک بالکل مصفی اور اصفی کیفیت روحانی اور کیفیت قلبی پیدا کر دی جائے گی اور اس اصفی کیفیت میں تم اپنے رب کے پیار کو دیکھو گے ، وہ رمضان کا مہینہ ہوگا یا رمضان کے بعد کے چھ ماہ کا وقت ہو گا۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔تمہارے لئے وہ لَیلَةُ الْقَدْرِ مقدر کر دی جائے گی۔در اصل انسان کو یہ اصفی روحانی کیفیت اسی وقت نصیب ہوتی ہے جب وہ اپنی اندرونی