خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1014
خطبات ناصر جلد دوم 1+15 خطبه جمعه ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں یہاں ایک تولیلۃ سے ایک زمانہ مراد ہے جب کہ دنيا ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ “ (الروم : ۴۲) کی مصداق بن جائے اور انسان خدا سے کلی طور پر دور ہو جائے اور کلی طور پر روبہ دنیا ہو جائے اور دنیا کے اس مُردار پر اس طرح بیٹھا ہوا ہو جس طرح ایک گدھ ایک مرے ہوئے گدھے پر بیٹھی ہوتی ہے۔انسان اور اس کے رب کے درمیان تقرب کی کوئی جھلک نظر نہ آئے۔اور اس لیلۃ کا یہاں ذکر ہے یعنی جب ظلمات اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں تو اس وقت خدائے قادر اپنے قادرا نہ تصرفات سے دنیا کو اپنی قدرتوں کے جلوے دکھاتا ہے اور وہ آسمان سے ایک نور کو وہ نازل کرتا ہے۔سب سے زیادہ اندھیری رات اور سب سے زیادہ تاریک اور فساد سے پر زمانہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اور اس کے مقابلے میں انسانی آنکھ نے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے جو نظارے دیکھے ان سے بڑھ کر پہلے کسی زمانے میں نہیں دیکھے گئے جس طرح طلوع اسلام سے قبل انسانیت پر انتہائی ظلمت اور ضلالت ایک اندھیری رات بن کر چھائی ہوئی تھی اُسی طرح انسان نے اپنی آنکھوں سے اس تیرہ و تاریک رات میں اللہ تعالیٰ کے نور کو بھی انتہائی طور پر چمکتے ہوئے نظاروں کے ساتھ دیکھا یہ وہ لیلتہ القدر ہے جس میں قرآن کریم ایک نور کی حیثیت میں نازل ہوا اور اس نے اس رات کے اندھیروں کو قیامت تک کے لئے دور کرنے کے سامان پیدا کر دیئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجسم نور تھے۔آپ کی اس نورانی کیفیت نے اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنے اندر جذب کیا اور یہی وہ نور ہے جو قرآن کریم کی شکل میں انسان کی ہدایت کے لئے نازل ہوا۔پس ایک تو یہ لیلۃ القدر ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا وہ زمانہ جس میں اندھیرے اور ظلمات اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور جن کو دور کرنے کے لئے وہ انتہائی شان اور چمک رکھنے والا نور نازل ہوا جسے ہم قرآن کریم بھی کہتے ہیں۔جسے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کہتے ہیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم کی اور بہت سی آیات سے بھی ہمیں پتہ لگتا ہے کہ