خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 999 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 999

خطبات ناصر جلد دوم ٩٩٩ خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء کہ وہ ہر طرح کوشش کرتی رہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے جو اس سے دور ہو گئے ہیں اپنے ربّ کے مقام کو پہچانیں اپنی زندگی کے مقصد کو جانے لگیں اور اپنے رب کی طرف لوٹیں اور اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کریں اور یہ کوشش جاری ہے۔یہ دعاؤں کا مہینہ ہے اس میں خاص طور پر دعا کرنی چاہیے کہ اے ہمارے رب ! ایک اہم ذمہ داری تُو نے ہمارے کندھوں پر ڈالی ہے ساری دنیا کے دلوں کو جیت کر تیرے قدموں میں لا ڈالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔وہ دنیا جو تجھ سے غافل ہے اور تیری طرف بلانے والوں کی دشمن ہے اس دنیا کو ہم نے تیرے لئے جیتنا ہے یہ فرض ہے جو تو نے ہم پر عائد کیا ہے لیکن یہ وہ کام ہے جو ہم اپنی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتے۔ہم اپنے مجاہدہ سے اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے ہم اسے صرف اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب تو ہماری مدد کو آئے کیونکہ کامیابی اسی وقت ہوتی ہے جب تو انسان کی مدد کو آ جاتا ہے اگر چہ تصویر تو یہ بنتی ہے کہ کہنے والے یا کہنے والی نے کہا تھا کہ میں نے اس بیاہ پر اپنے رشتہ دار کو ایک سو ایک روپیہ دیا ہے ان میں سے ایک سو روپیہ تو اس کے ایک عزیز کا تھا اور ایک روپیہ اس کا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل کے مجموعہ کے مقابلہ میں ہماری کوشش سو کے مقابلے میں ایک نہیں بلکہ نہ معلوم تعداد اور بے شمار کے مقابلہ میں ایک یا شاید ایک سے بھی کم ہو۔بہر حال جب تک اللہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل انسان کی کوشش کے ساتھ شامل نہیں ہوتا اس وقت تک اس کوشش کے نیک نتائج نہیں نکلا کرتے اس وقت تک دین کی اور دنیا کی کامیابیاں حاصل نہیں ہوا کرتیں۔غرض ماہِ رمضان میں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اے خدا! جہاں تو ہمیں اپنی زندگیوں میں اپنی راہ میں صبر کے ساتھ اور ہمت کے ساتھ اور عزم کے ساتھ کوشش کی توفیق دیتا چلا جا وہاں یہ بھی فضل کر کہ اپنے فضل کو ہماری کوشش میں شامل کر دے تا کامیابی اور فلاح کی راہ ہمارے لئے کشادہ ہو جائے اور ہمارے دل تیرے حمد سے اور بھی زیادہ بھر جائیں لبریز ہو جائیں تا کہ جوحد ہمارے دلوں سے باہر نکلے وہ دوسروں کو اپنی طرف کھینچنے کی موجب بنے تا تیرے بندے تجھے پہچانے لگیں۔