خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 953 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 953

خطبات ناصر جلد دوم ۹۵۳ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۶۹ء گئی ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میں اپنی جماعت کو رشیا کے علاقہ میں ریت کے ذروں کی مانند دیکھتا ہوں جس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح ریت کا ذرہ مٹی میں مل تو جاتا ہے لیکن اس پر مٹی کا اثر نہیں ہوتا۔اسی طرح روس میں اسلام قبول کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا تقویٰ عطا ہوگا کہ وہ اس گندے ماحول میں بھی اپنی سعادت مندی اور نیک فطرتی کا اظہار کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی آواز کو سن کر اس پر لبیک کہنے والے اور اسی پر جان دینے والے ہوں گے اور وہ ایک نہیں دو نہیں بلکہ بے شمار ہوں گے۔اکثریت انہی لوگوں کی ہو جائے گی۔آپ نے فرمایا کہ ”پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا اسلام کی طرف زور کے ساتھ رجوع ہوگا۔“ ہند و قو میں جو نہ صرف اس وقت بھارت میں بلکہ بڑی Minorities (اقلیت ) کی حیثیت میں بعض دوسرے ممالک میں بھی پائی جاتی ہیں ان کے متعلق ہمیں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ وہ اسلام قبول کریں گی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو اپنا کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث ہوں گی۔اسی طرح آپ نے فرمایا ہے۔”اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں۔اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ان بدبختوں اور بدقسمتوں کا دلی تعلق زندہ اور قادر خدا سے قائم کرنا اور اس کے لئے انتہائی قربانیاں دینا اور ایثار دکھانا اور تضرع اور خشوع سے دعاؤں میں لگے رہنا۔یہ ہے وہ ذمہ داری جو ہم پر عائد کی گئی ہے۔پھر انگلستان کے متعلق بشارت دی گئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں پر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سفید پرندے پکڑ رہے ہیں۔پس ساری دنیا ہی انتہائی گند کے اندر مبتلا ہے۔مثلاً روس ہے وہاں کے لیڈروں نے اپنی بدبختی کی وجہ سے یہ دعویٰ کر دیا کہ ہم دنیا سے اللہ تعالیٰ کے نام کو اور آسمان سے اس کے وجود کومٹا دیں گے۔(نعوذ باللہ ) پھر یورپ کے بسنے والے بداخلاقیوں کے گند اور کیچڑ میں لت پت