خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 84
خطبات ناصر جلد دوم ۸۴ خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۶۸ء بڑے پیار سے اس کو رکھا عام آدمی ، مزدور، میرے جیسا انسان ہے اس کے دو بچے ترقی کر کے کہیں کے کہیں پہنچ گئے ہیں ایک اس وقت افریقہ میں ہمارے سیکنڈری سکول میں پڑھا رہے ہیں دوسرے یہیں کہیں ملازم ہیں ان کے دل میں تعلیمی میدان میں ترقی کرنے کا شوق تھا یہ بات کہ ان کا باپ ایک غریب آدمی ہے پینسٹھ روپے تنخواہ لے رہا ہے ان کی پڑھائی کے رستہ میں روک نہیں بنی۔اسی طرح بیبیوں مثالیں ایسی ہوں گی کہ پچاس روپے ساٹھ روپے سوروپے تنخواہ لینے والے جو ہیں ان کے بچے بغیر کسی تکلیف کے جو ان کے خاندان کو پہنچے آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے اور بڑی ترقی کی۔اس کے مقابلے میں باہر کی حالت اس سے مختلف ہے۔میں ایک مثال دے دیتا ہوں کئی لوگ شرح کے ساتھ چندہ نہیں دیتے تھے گنہگار ہوتے تھے میری طبیعت پر اس کا بڑا اثر تھا میں نے یہ اعلان کروایا کہ جن کے حالات تنگ ہوں وہ اجازت لے لیں وصیت تو بہر حال ۱/۱۰ دینی ہے لیکن جو عام چندہ ہے اس میں حالات کے مطابق کمی و بیشی کی جاسکتی ہے اس واسطے کیوں گنہگار ہوتے ہو مرکز سے اجازت لو کہ ہمارے یہ حالات نہیں ہم اجازت دے دیں گے تو کئی دفعہ ایسے دوستوں کے نام بھی میرے سامنے آتے ہیں اجازت کے لئے پانچ سو روپیہ تنخواہ ہے دو یا تین بچے سکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں مصیبت پڑی ہوئی ہے ، نصف شرح پر چندہ دینے کی اجازت دے دیں ہمیں اور اس کے مقابلے میں ربوہ کے احمدی بھائی ہیں کہ پانچ سو کے مقابلے میں ساٹھ یا پینسٹھ یاستر یا پچھتر روپے ان کی تنخواہ ہے لیکن ان کو اتنی سہولتیں حاصل ہیں کہ کبھی ان کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ یہ درخواست دیں کہ ہمیں نصف شرح پر چندہ دینے کی اجازت دی جائے۔پس بڑی ہی سہولتیں ربوہ میں میسر ہیں دوسرے مقامات پر بھی احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کے بڑے فضل اور انعام ہیں لیکن ربوہ کے غربا پر تو بہت ہی انعام ہورہے ہیں اور ان کو بڑی مدد مل رہی ہے خیال آتا ہے کہ کہیں یہ آیت اَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُهِتُهُمْ بِهِ مِنْ مَّالٍ وَ بَنِيْنَ - نُسَارِعُ لَهُمْ في الْخَيْراتِ (المؤمنون: ۵۷،۵۶) ہمارے متعلق ہی تو نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر قسم کے دنیاوی فضل ہم پر ہورہے ہیں لیکن ہم اپنی غفلت کی وجہ سے ان ذمہ داریوں کی طرف متوجہ نہیں جو ذمہ داریاں