خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 83

خطبات ناصر جلد دوم ۸۳ خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۶۸ء بھی پتہ۔ہاؤس سرجن کو بھی پتہ کہ ان کے بڑے تعلقات ہیں ڈاکٹر سے۔ایسا ہوا کہ ایک دن ٹیکا لگاتے ہوئے سٹکنین کی گولی جس کے تیار کرنے پر دو منٹ نرس کو خرچ کرنے پڑتے تھے اس نے اپنے دومنٹ بچانے کے لئے وہ گولی پھینک دی اور خالی ایمٹین کا ٹیکا لگانے لگی جو بعض دفعہ بہت مضر پڑتا ہے اور دل کے پٹھوں پر اس کا بداثر پڑتا ہے میری نظر پڑ گئی میں نے کہا کیا ظلم کر رہی ہو تم ! یہ گولی ڈالو!! سخت شرمندہ ہوئی وہ۔پھر اس نے وہ گولی گرم پانی میں گھول کر اس میں شامل کی۔پس اس قسم کا تو تعلق ہے ان لوگوں کا مریضوں کے ساتھ !!!! اور یہاں یہ حالت ہے کہ غریب سے غریب مریض اس دوا کا طالب ہوتا ہے جو سب سے مہنگی ہو جن کی عام لوگ لاہور میں بھی استطاعت نہیں رکھتے کہ اتنی رقم اس دوائی پر خرچ کریں۔ضرورت کے وقت تو بے شک بہترین دوائی دینی چاہیے لیکن وائٹا منز ہیں مثلاً وہ پانچ روپے کی سو بھی آتی ہیں اور پچاس روپے کی سو بھی آتی ہیں اور اثر کے لحاظ سے ۱۸۔۲۰ کا فرق ہوگا زیادہ سے زیادہ۔تو میں نے یہاں دیکھا ہے کہ غریب سے غریب آدمی جو بمشکل اپنا گزارہ کر رہا ہے کیونکہ دوا مفت ملتی ہے اس لئے وہ کہتا ہے کہ مجھے پانچ روپے والی وائکا من نہیں چاہئیں مجھے پچاس روپے والی چاہئیں حالانکہ دنیا کے امیر بھی وہی پانچ روپے والی دوا کھارہے ہیں۔اتنی سہولتوں کے نتیجہ میں کچھ ذمہ داریاں بھی تو پڑتی ہیں آپ لوگوں پر ! اگر آپ دنیوی سہولتیں تو حاصل کر لیں لیکن دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ نہ ہوں تو بڑے بد بخت ہیں آپ !! کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیتے ہیں۔پھر اگر تعلیم کے لحاظ سے دیکھیں تو غریب سے غریب شخص بھی اپنے اس بچے کو پڑھا سکتا ہے جو پڑھنا چاہے اور ہوشیار ہو ” جو پڑھنا چاہئے، میں اس لئے کہتا ہوں کہ بہت سارے بچے دوڑ جاتے ہیں وہ پڑھنا چاہتے ہی نہیں بعض دفعہ ربوہ سے باہر چلے جاتے ہیں بڑی مصیبت پڑتی ہے ان کے ماں باپ کو۔لیکن جو بچے پڑھنا چاہیں اور پڑھائی میں اچھے ہوں ان کے لئے فراخ شاہراہ ہے جس پر وہ چلتے چلے جاتے ہیں۔اس کا سواں حصہ سہولت بھی کسی دوسری جگہ میں نہیں ہے نہ غیروں کو نہ احمدیوں کو۔ہمارا اپنے کالج کا ایک مالی ہے میں نے اپنی عادت کے مطابق