خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 927 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 927

خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء خطبات ناصر جلد دوم ۹۲۷ تو اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اگر وہ دعاؤں میں لگے رہے تو ان کے رزق کے سامان پیدا ہو جائیں گے ان میں احمدی بھی ہیں اور دوسرے بھی ویسے ان معاملات میں احمدی غیر احمدی کا کوئی سوال نہیں جو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دیتا ہے مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کے نتیجہ میں ان کی تنگی کو دور کر دے گا کیونکہ خدا بڑا رحم کرنے والا ہے۔اس واقعہ سے لوگوں کو یہ سبق دینا مقصود تھا کہ تدبر کو انتہا تک پہنچانے کے بعد بھی جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ میں محض اپنی تدبیر کے ذریعہ نیک نتیجہ پیدا کرلوں گا وہ بڑا ہی احمق اور غلطی خوردہ ہے نیک نتیجہ اللہ تعالیٰ پر منحصر ہے اور اس کے بارے میں آگے آئے دن مختلف نظارے ہمارے سامنے آتے سرفضل پر رہتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب سے فائدہ اُٹھانے کے لئے فطری قوت کا صحیح اور پورا استعمال ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ قوت بطور احسان کے عطا فرمائی ہے اس لئے مسائل پر غور کرتے رہنا چاہیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے منشا کے ماتحت ہماری بہتری کے لئے اپنے اوپر ایک کامل فنا وارد کی اور خود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں کامل طور پر گم کر دینے کی مقبول کوشش کی۔( یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس کوشش کو قبول فرما یا ) اور اس کا نیک نتیجہ یہ نکالا کہ جو آپ چاہتے تھے وہ عمل میں آ گیا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اتناز بر دست مجاہدہ کیا کہ اپنا کچھ باقی نہ رہا۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا فی اللہ کا مقام حاصل ہو گیا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں آپ کا وجود باقی نہ رہا اور اکمل طور پر فنا في الرّسولِ کا مقام عطا ہوا۔ویسے تو اُمت محمدیہ کے تمام اختیار و ابرار ظلی طور پر اس فنا کے مقام کو حاصل کر کے ہی سب کچھ پاتے رہے لیکن اس راہ میں ان کی ظلیت اور ان کی فنا کامل نہیں ہوتی تھی اور آئندہ بھی اس معنی میں کامل نہیں ہوگی۔پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مبارک وجود ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو فنا فِي اللَّهِ اور فَنَا فِي الرَّسُولِ کا بلند ترین مقام عطا ہوا۔اللہ تعالیٰ کی ذات میں بھی آپ نے اپنے آپ کو کامل طور پر فنا کر دیا اور اپنے نبی متبوع حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں بھی ایسے گم ہو گئے اور آپ کے ایسے