خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 911 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 911

خطبات ناصر جلد دوم ۹۱۱ خطبه جمعه ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء اور اپنے نفس کے حقوق سے زائد رکھنا چاہتا ہے یا زائد لینا چاہتا ہے اور دوسرے کی حق تلفی کرتا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہوتا ہے کہ رحمت کی تقسیم کے وقت اس کو ترک کر دیا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے سَنَجْزِی الَّذِيْنَ يَصْرِفُونَ عَنْ ايْتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْرِفُونَ۔(الانعام : ۱۵۸) اللہ تعالیٰ کی صفات کا ایک یہ جلوہ بھی ہے کہ وہ لوگ جو اس کی ہدایت پر عمل نہیں کرتے انہیں اللہ تعالیٰ اس بے عملی کی وجہ سے اس دنیا میں بھی اور اگلی دنیا میں بھی عذاب دیتا ہے اور اس دنیا میں عذاب کی ایک شکل یہ ہے کہ وہ اس کی رحمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ان دونوں آیات پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں۔اس قسم کا منصوبہ بناتے وقت کہ کس پارٹی کو شکر کا کارخانہ لگانے کی اجازت دی جائے یا کس پارٹی کو کپڑا بنانے کا کارخانہ لگانے کی اجازت دی جائے یہ امر مد نظر رہنا چاہیے کہ صرف وہ پارٹی یہ کارخانے لگانے کی مستحق ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اقتصادی اصولوں پر عمل کیا ہو اور وہ حقوق اپنے زائد اموال میں سے ادا کئے ہوں جن کے ادا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ہر ایسے شخص کو ہدایت کر رکھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جنہیں اس نے کمانے کی توفیق عطا فرمائی تھی یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم نے تمہیں یہ توفیق عطا کی ہے کہ تم اپنے حقوق اور دوسروں کے حقوق کو پورا کرنے کے لئے جن اموال کی ضرورت ہے اس سے زیادہ کما لو اور یہ اس لئے تھا کہ تم میری بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق ان زائد اموال کو ( یہاں جب میں زائد اموال بولتا ہوں تو وہ اموال مراد ہیں جو ان کے اپنے حقوق کی ادائیگی سے زائد ہیں ) میرے دوسرے بندوں کے جائز حقوق کی ادائیگی میں خرچ کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو کارخانہ دارا اپنی کمائی کے زائد اموال میں سے دوسرے بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں خرچ نہیں کرتا اس کا یہ حق نہیں ہے کہ اسے ایک نیا کارخانہ کھولنے کی اجازت دی جائے بلکہ یہ حق تو اس کا بنتا ہے جو اپنے زائد اموال کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں خرچ کرتا ہے لیکن وہ جو اسراف کرتا ہے اور ظلم سے کام