خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 880 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 880

خطبات ناصر جلد دوم ۸۸۰ خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۶۹ء اور نیک بدلہ ہمیں دیتا ہے۔ہماری متضرعا نہ دعاؤں اور اعمالِ صالحہ میں بہت سے نقائص رہ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کرتا ہے اور جو نقص رہ جاتا ہے اس کو دور کر دیتا ہے تا عملِ صالح ضائع نہ ہو۔غرض رحیمیت کے معنی میں پردہ پوشی کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور رحیمیت کے معنی میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ عملِ صالح کا نیک نتیجہ جس صورت میں نکل سکتا تھا عمل وہاں تک نہیں پہنچا اس میں کچھ نقص رہ گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحیمیت اس نقص کو دور کرتی ہے اور اس طرح چشم پوشی سے کام لے کر عمل صالح کا وہ نتیجہ نکال دیتی ہے جو اس کا بہتر نتیجہ (شمرۂ حسنہ ) نکلنا چاہیے تھا۔غرض چشم پوشی کرنا اور نقص کو دور کرنا تا تضیع اعمال نہ ہو۔اعمالِ صالح ضائع نہ ہو جائیں۔رحیمیت کا کام ہے۔انسان اپنی انتہائی کوشش اور اپنی نہایت عاجزانہ دعاؤں کے باوجود اس بات پر یقین نہیں کر سکتا اس بات پر تسلی نہیں پا سکتا کہ اس کے اعمال میں کوئی نقص نہیں رہ گیا۔اگر خدا تعالی کی رحیمیت کے جلوؤں میں اس نقص کو دور کرنے اور چشم پوشی کے جلوے شامل نہ ہوتے تو ہمارے نیک اعمال کا نیک نتیجہ ہرگز نہ نکلتا۔غرض اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال کا نیک نتیجہ نکالتا ہے اور اس نیک نتیجہ کے نکالنے میں جس حد تک چشم پوشی کی ضرورت ہوتی ہے وہ چشم پوشی کرتا ہے اور جس حد تک ہمارے اعمال کے نقائص کو دور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان نقائص کو دور کرتا ہے اور ہمارے اعمال اور ہماری دعاؤں کا نیک نتیجہ نکال دیتا ہے۔پھر نیک نتیجہ رحیمیت کے جلوؤں میں صرف استحقاق پیدا کرتا ہے۔جس طرح ایک طالب علم جب امتحان دیتا ہے تو اس کی کوششوں کا نیک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بی۔اے یا ایم۔اے پاس کر لیتا ہے۔یہ ایک نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دعائیں کرنے والے اور محنت کرنے والے طلبا کی کوششوں کا نکالتا ہے۔لیکن بی۔اے پاس کر لینا یا ایم۔اے پاس کر لینا جو نتیجہ ہے یہ پورا بدلہ نہیں ہے بلکہ اس نتیجہ سے بدلہ کا استحقاق پیدا ہوتا ہے یعنی بی۔اے پاس کرنے کے بعد جس قسم کی نوکری کسی کو مل سکتی ہے اس قسم کی نوکری اسے مل جانی چاہیے۔ایم۔اے پاس کرنے کے بعد جس قسم کی نوکری اُسے مل سکتی ہے وہ نوکری اُسے مل جانی چاہیے۔یہ نتیجہ ہے جو رحیمیت کے جلوؤں