خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 75 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 75

خطبات ناصر جلد دوم ۷۵ خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۶۸ء ایسا انتظام کریں کہ ہر وہ بچہ یا بچی جو کچھ بولنے لگ گئی ہے لفظ اُٹھانے لگ گئی ہے۔سات سال کی عمر تک ان سے تین دفعہ کم از کم یہ تسبیح اور درود کہلوایا جائے۔اس طرح پر بڑے (۲۵ سال سے زائد عمر ) دوسود فعہ، جوان کم از کم ایک سو بار اور بچے تینتیس (۳۳) بار اور بالکل چھوٹے بچے تین بار تسبیح اور تحمید کریں۔پس جماعت کو چاہیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور کم از کم مذکورہ تعداد میں ( زیادہ سے زیادہ جس کو جتنی بھی توفیق ملے ) اس ذکر و درود کو پڑھے اور اس احساس کے ساتھ پڑھے کہ بڑی ذمہ داری ہے ہم پہ تسبیح و تحمید اور درود پڑھنے کی۔انسان اس وقت بڑے نازک دور میں سے گذر رہا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے رحمت بن کے بھیجے گئے تھے اور آپ کی رحمتوں اور برکتوں کو کھینچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا لازمی ہے۔یا درکھیں کہ جس وقت ہم نے دنیا کی فضاؤں کو خدا کے ذکر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے پر کر دیا اس وقت شیطانی آواز خود بخود ان فضاؤں میں دب جائے گی اور اسلام غالب آ جائے گا۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اس طریق پر جو میں بتا رہا ہوں تسبیح اور تحمید کریں اور درود پڑھیں اس کے علاوہ دوسرے طریقوں پر بھی درود پڑھنا چاہیے جیسا کہ نماز میں ہم پڑھتے ہیں۔لیکن ساری جماعت پر میں فرض قرار دیتا ہوں کہ اس طریق پر کہ بڑے کم از کم دو سو بار، جوان سو بار، بچے تینتیس بار اور جو بہت ہی چھوٹے ہیں وہ تین دفعہ دن میں تحمید اور درود پڑھیں اس طرح کروڑوں صوتی لہریں خدا تعالیٰ کی حمد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کے نتیجہ میں فضا میں گردش کھانے لگ جائیں گی۔ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگنی چاہیے کہ اے خدا! ہمیں توفیق عطا کر کہ ہماری زبان سے تیری حمد اس کثرت سے نکلے اور تیرے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہماری زبان سے درود اس کثرت سے نکلے کہ شیطان کی ہر آواز ان کی لہروں کے نیچے دب جائے اور تیرا ہی نام دنیا میں بلند ہو اور ساری دنیا تجھے پہچاننے لگے۔پس دعاؤں کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوں اور یکم محرم سے ساری جماعت اس کام میں