خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 845
خطبات ناصر جلد دوم ۸۴۵ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء میں استعمال کیا گیا ہے۔ایک عام اندازہ کے مطابق ۷۵ یا ۸۰ فیصد نسخوں میں افیون ضرور شامل ہوتی ہے لیکن وہ ہر دوائی کا جزو بنتی ہے اپنی قدرتی اور طبعی اور موزوں شکل میں۔اسی لئے طب یونانی کی تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا کہ طب یونانی کے نسخوں کے استعمال کے نتیجہ میں کسی فرد واحد کو افیون کھانے کی عادت پڑ گئی ہو کیونکہ ہر ایسے نسخہ میں خدا کے قانون کی روشنی میں تجربہ کر کے اس کی مقدار موزوں اندازے کے مطابق رکھی جاتی ہے لیکن اس کا غلط استعمال بھی ہونے لگا۔چنانچہ اس کے بعض اجزا کے اگر کسی شخص کو دو شیکے کر دیئے جائیں تو اس کو افیون کی عادت پڑ جاتی ہے اور اُدھر وہ دواؤں کی شکل میں موزوں مقدار میں ساری عمر کھا تا رہے تو پھر بھی اس کی عادت نہیں پڑتی۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی نسبت سے یعنی انفرادی طور پر جس جس قسم کے توازن کی ضرورت تھی اس اس شکل میں اُسے پیدا کیا۔پھر ایک نوعی توازن قائم کیا جو مثلاً اجناس کے اندر کارفرما ہے۔اسی طرح تمام پھلوں اور کھانے پینے کی اشیاء میں توازن قائم ہے اور یہ زمین ہے جس میں یہ موزونیت یہ میزان کا عمل دخل نظر آتا ہے۔قرآن کریم اسے کہے گا کہ انسان کے قومی اور اس کی قابلیتوں کی صحیح اور بہترین نشو و نما کے لئے جس غذا کی جس شکل میں جس موزوں حالت میں اور جس متوازن صورت میں ضرورت تھی یہ اس زمین میں پائی جاتی ہے۔غرض جس مجموعہ آثار الصفات میں موزوں غذا پائی جاتی ہے وہ زمین ٹھہری۔پھر فرمایا وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصدع۔(الطارق : ۱۲، ۱۳) یعنی زمین وہ ہے جوصدع ہونے کے اثر کو قبول کرنے کی اہلیت رکھتی ہے یعنی زمین وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے غیر محمد ودجلوؤں کے ساتھ ہمیشہ متوجہ رہتا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ زمین آثار صفات باری تعالیٰ کے مخصوص مجموعے کا نام ہے اس لئے زمین کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے غیر محدود جلوؤں کے ساتھ متوجہ رہتا ہے کیونکہ یہ ان غیر محدود مؤثرات کا اثر قبول کرنے کی ہمیشہ اپنے اندر اہلیت پاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار جلوؤں کا ظہور ہو رہا ہے اور زمین ان کو قبول کر رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک