خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 844 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 844

خطبات ناصر جلد دوم ۸۴۴ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء فرما یا کئی من گوشت تجھے کھانے کو دیتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ میں نے میزان کا جو اصول قائم کیا ہے وہ برقرار ر ہے اس لئے اس کو ہضم کرنے کے لئے تجھے کم و بیش پچاس میل کی دوڑ لگانی پڑے گی اور اگر ہم بھی اسی قسم کی دوڑ لگا ئیں تو بے شک شیر جتنا گوشت تو نہ کھا سکیں لیکن ہماری خوراک ضرور بڑھ جائے۔ایک بنیا جو اپنے سامنے بہی کھاتے کھول کر بیٹھا رہتا ہے اور ساتھ خوب مٹھائی ہاں یہ بھی میزان خوراک میں ایک بڑا جزو ہے) کھاتا رہتا ہے جس کے نتیجہ میں اس پر چربی چڑھ جاتی ہے اور پیٹ بڑھ جاتا ہے اتنا کہ مثال کے طور پر ہم کہہ دیں کہ اس کے اندر ایک ہاتھی چھپ جائے۔غرض اس سے اپنا پیٹ سنبھالا نہیں جاتا کیونکہ ایک تو اس نے غیر متوازن غذا کھائی اور جو کھائی اس کے ہضم کا انتظام نہیں کیا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے زمین کی ہر چیز کو موزوں پیدا کیا ہے۔ہر چیز میں توازن کا قانون جاری کیا ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ کسی چیز کی موزونیت نسبت سے تعلق رکھتی ہے یہ انسان کی نسبت ہے کیونکہ ہر چیز کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور پھر تمام انسانوں میں سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات ہے جن کے لئے یہ ساری مخلوق ظہور پذیر ہوئی۔آپ انسانیت کا نچوڑ اور جو ہر کامل ہیں۔آپ کو انسانیت کا کمال حاصل ہوا۔غرض ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے آپ کی علوّ شان کا اظہار کرسکیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھو میں نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں بے شمار قابلیتیں عطا کیں۔تمہارے اندر جسمانی قابلیتیں رکھیں۔تمہارے اندر ذہنی قابلیتیں رکھیں۔پھر تمہارے اندر اخلاقی قابلیتیں رکھیں تمہارے اندر روحانی قابلیتیں رکھیں اور ان قابلیتوں کی صحیح نشو ونما کے لئے میں نے ہر موزوں چیز پیدا کر دی اگر تم چاہو تو تم اس سے فائدہ اُٹھا کر صحیح راہوں پر چل کر اپنی انفرادیت کی نشو ونما کو اس کے کمال تک پہنچا سکتے ہو کیونکہ میں نے ہر چیز کو موزوں شکل میں پیدا کیا ہے۔ایک موٹی مثال اس موزونیت کی افیون ہے۔انسان کی بیماریوں کو دُور کرنے کے بھی اس میں اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کئے ہیں۔چنانچہ طب یونانی میں افیون کو بڑی کثرت سے دواؤں