خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 843 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 843

خطبات ناصر جلد دوم ۸۴۳ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء چاہتا ہے اور دوسرے یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جس میں متوازن ہونے کا مطالبہ ہے۔چنانچہ اسی لئے قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ہم نے اس زمین میں میزان قائم کیا ہے، اس زمین سے تعلق رکھنے والے صفات باری تعالیٰ کے جلوؤں میں اصول توازن کارفرما ہے اور ساتھ ہی فرمایا کہ تمہیں یہ حکم دیتے ہیں اَلا تَطْغَوا في الميزان۔(الرحمن:۹) کہ اس اصولِ توازن کو توڑنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ تم سخت نقصان اُٹھاؤ گے۔مثلاً کھانے پینے میں Balanced Diet ( متوازن غذا) کے محاورہ کو ہماری موجودہ سائنس نے بھی اختیار کر لیا ہے اور میزان کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے متوازن غذا کے اصول کو دریافت کیا ہے یعنی ہماری غذا کے جو معلوم اجزا ہیں ان میں ایک معتین تو ازن ہونا چاہیے۔غذا میں اتنی پروٹین ہو اتنی مقدار میں لحمیات کی ہو اس میں اتنا میدہ ہو اس کے اندر وٹامن کی ایک خاص مقدار پائی جاتی ہو۔پھر Mineral Salts ( نمکیات) ہیں۔Fat یعنی چکنائی ہے جو گھی اور مکھن کی شکل میں ہوتی ہے۔گھی صرف گائے بھینس کا نہیں بلکہ جو گھی مصنوعی طور پر تیار کئے جاتے ہیں مثلاً تو ریہ سے مصنوعی گھی تیار کیا جاتا ہے وہ بھی گھی کی ایک قسم ہے اور اس میں چکنائی پائی جاتی ہے۔پس گھی اور پروٹین ہے میں نے سمجھانے کے لئے پروٹین کا مطلق لفظ بول دیا ہے ورنہ اس کی آگے آٹھ نو معلوم قسمیں ہیں ابھی اور آگے پتہ نہیں کتنی قسمیں معلوم ہوں۔غرض غذا کی ان تمام چیزوں میں توازن ہونا چاہیے۔ہر ایک چیز کو ایک اندازے کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔پس غذا کے تمام اجزا متوازن اور مناسب ہونے چاہئیں اور پھر غذا کے ہضم کا توازن بھی برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ ہر چیز میں توازن کا اصول کارفرما ہے اس لئے جتنی غذا استعمال کی جائے اس کے ہضم کرنے کا بھی انتظام ہونا چاہیے کیونکہ قدرت نے ہر چیز میں توازن قائم کر رکھا ہے۔شیر کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ دو اڑھائی بلکہ تین من تک شکار کا گوشت کھا لیتا ہے لیکن پھر وہ آرام نہیں کرتا بلکہ گوشت کو ہضم کرنے کے لئے جنگلوں میں کم و بیش پچاس میل کا چکر کا تھا ہے پھر وہ سو جاتا ہے اور جب اُٹھتا ہے تو اسی بچے کھچے گوشت کا ناشتہ کرتا ہے کیونکہ اس کی بڑی خوراک یہی گوشت ہے پس شیر کو اللہ تعالیٰ نے آزادی اور اختیار نہیں دیا بلکہ اپنے حکم کا پابند بنایا۔خدا تعالیٰ نے اس کو