خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 839
خطبات ناصر جلد دوم ۸۳۹ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء ایجادات جو انسان نے انسانی عمر میں کرنی تھیں یا وہ Discoveries (دریافتیں ) یا معلومات حاصل کرنی تھیں ایک ہی وقت میں رونما ہو جاتیں اور یہ ریلیں اور ہوائی جہاز اور یہ راکٹ اور یہ مختلف قسم کی دوائیاں وغیرہ پہلے زمانوں ہی میں بنا لی جاتیں تو ہمارا یہ زمانہ بڑا Bore ( اکتا دینے والا) ہوتا اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو ایک Urge ( خواہش ) رکھی ہے کہ وہ نئی سے نئی چیزیں تلاش کرے اس خواہش کو پورا کرنے کا اُسے کوئی سامان میسر نہ آتا۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ آسمان اور زمین بندھی ہوئی گٹھڑی کی طرح بھی ہیں اور اپنے اندرفتق کی خاصیت بھی رکھتے ہیں۔ایجادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہے۔انسان نئی سے نئی معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ آسمان میں بھی آثار الصفات کے نوادر مخفی ہیں اور زمین میں بھی آثار الصفات کے نوار مخفی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منشا اور ارادہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔پس زمین کا ایک حصہ تو عیاں ہے اور اس کا ایک حصہ گٹھڑی کی طرح بندھا ہوا بھی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس نظام کے ماتحت انسان کے اندر ایک Urge ( خواہش ) رکھی تھی ، ایک عزم عطا کیا تھا، ایک ہمت دی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جلوؤں میں نئی سے نئی معلومات کو تلاش کرے۔چنانچہ اس Urge (خواہش ) کو پورا کرنے کے سامان پیدا کر دیئے گئے جن سے انسان ہمیشہ فائدہ اُٹھا تارہا ہے اور آئندہ بھی اُٹھا تا رہے گا۔پس خدا تعالیٰ کے نزدیک قرآن کریم کی رو سے زمین بیک وقت رتق کی بھی اور فتق کی بھی اہلیت رکھتی ہے اور یہ فتق دراصل البہی منشا اور حکم سے ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان اس دنیوی زندگی میں دنیوی طور پر ارتقا کے بے شمار مدارج طے کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی طے کرتا چلا جائے گا۔ہمارا دماغ اس کی حد بست کرنے سے عاجز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خدا کا قول اور اس کا فعل یکساں ہوتے ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں ہوتا۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بیک وقت وہ کتاب مبین بھی ہے اور کتاب مکنون بھی ہے اور اسی طرح خدا تعالیٰ کا جو فعل ہے یعنی خدا تعالیٰ کی صفات نے