خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 838 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 838

خطبات ناصر جلد دوم ۸۳۸ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء ذریعہ ہمیں حاصل ہونے لگ گئے۔پس قرآن کریم کی رُو سے یہی وہ الارض یعنی زمین ہے جہاں پانی ہے جو حیات اور زندگی کا منبع اور سر چشمہ ہے اور پھر زندگی کے اس سرچشمے کی آگے مناسب تقسیم کے لئے اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں نے ایک عظیم انتظام کر رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے زمین کی ایک اور خاصیت یہ بیان فرمائی ہے کہ ایک جیسی زمین ہوتی ہے، ایک ہی قسم کے پانی سے سیراب ہوتی ہے مگر اس میں مختلف قسم کی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔کھیتوں کو دیکھئے زمین کے لحاظ سے یہ ایکٹر اور وہ ایکٹر دونوں برابر ہیں۔ایک ہی نہر سے ہم انہیں پانی دے رہے ہوتے ہیں یا ایک ہی Tubewell ( ٹیوب ویل ) یا کنوئیں کے پانی سے وہ سیراب ہور ہے ہوتے ہیں یا ایک ہی قسم کی بارش بادلوں سے نازل ہوتی ہے اور فصلوں کو سیراب کرتی ہے لیکن ہم کہتے ہیں یہ زمین گندم کے لئے اچھی ہے، یہ زمین دھان کے لئے اچھی ہے، یہ زمین کپاس کے لئے اچھی ہے، یہ زمین تیل کے بیجوں کے لئے اچھی ہے، یہ زمین آم کے درخت لگانے کے لئے اچھی ہے، یہ زمین امرود کے پیروں کے لئے اچھی ہے، یہ زمین سنگترے مالٹے اُگانے کے لئے اچھی ہے اور یہ زمین جہاں کچھ اور نہیں اُگتا شور اور کلر والی ہے یوکلپٹس کے لئے اچھی ہے۔غرض ایک جیسی زمین اور ایک ہی جیسا پانی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک خاص حکمت کے ماتحت یہ انتظام کیا کہ اس میں سے مختلف نوع کی چیزیں پیدا ہوں ( میں اس کی کسی قدر تفصیل آگے بیان کروں گا ) جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی رُو سے زمین کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں باوجود اس کے پہلو بہ پہلو ہونے اور ایک ہی پانی سے سیراب ہونے کے مختلف انواع کے اجناس اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں۔پس زمین کی یہ خصوصیت بھی دراصل خدا تعالیٰ کے بے شمار جلوؤں پر مشتمل ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرما یا اَنَّ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا - (الانبياء: ٣١) زمین میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار جلوے ہمیں نظر آتے ہیں۔یہ زمین ایک ہی وقت میں بندھی ہوئی گٹھڑی کی طرح بھی ہے اور فتق یعنی کھلنے یا اپنے مخفی رازوں کے ظاہر کرنے کی خاصیت بھی رکھتی ہے۔ورنہ اگر حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں ایک ہی نسل میں وہ ساری کی ساری