خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 821 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 821

خطبات ناصر جلد دوم ۸۲۱ خطبه جمعه ۲۹ /اگست ۱۹۶۹ء ہر احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں بنی نوع انسان کا حقیقی ہمدرداور غمخوار بننے کی کوشش کرے فرمائی۔خطبه جمعه فرموده ۲۹ راگست ۱۹۶۹ء بمقام الامتیاز۔کراچی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ - لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ۔(الانعام : ۱۶۳، ۱۶۴) اس کے بعد فرمایا:۔احباب جماعت کا یہ مشورہ تھا کہ آج احمد یہ ہال کی بجائے ایک جمعہ کی نماز یہاں ہو جائے اور اسی طرح مختلف حلقوں کی مساجد میں الگ الگ جمعہ کی نماز پڑھ لی جائے۔میں نے اس مشورہ کے پیش نظر اجازت دے دی۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔ضرورت سے زیادہ احتیاط تھی یا احتیاط کا ا یہی تقاضا تھا۔بہر حال وہ مضمون جو آج میں بیان کرنا چاہتا تھا یعنی چاند پر انسان کے اترنے کے متعلق اس کو میں نے چھوڑ دیا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اس مضمون کو ساری جماعت کے سامنے بیان کر دوں اس لئے اس کی بجائے آج میں مختصراً ایک اور ضروری امر کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔مختصراً اس لئے کہ صبح جب میں اُٹھا تو میرے سر میں جگر کی خرابی کی وجہ سے چکر آرہے