خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 820
خطبات ناصر جلد دوم ۸۲۰ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ء پہنچا نہیں سکتے جب تک پہلے آپ اس کو یہ خوشخبری نہ دے دیں کہ دیکھو اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ کا اعلان کر دیا گیا۔ایک عظیم الشان بشارت انسان کو مل چکی۔احسنِ تقویم کا مقام اسے حاصل ہو گیا۔ہر انسان خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں پیدا ہوا ہو خواہ وہ کسی بھی زمانہ سے متعلق ہو انسانی شرف اور مرتبہ میں ہر دوسرے انسان کے مساوی اور برابر ہے۔کوئی انسان دوسرے انسان سے برتر نہیں کسی کے متعلق زیادہ معزز اور کم معزز کا فقرہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔جب انسان اپنا یہ مقام پہچان لیتا ہے تو گویا وہ ایک ایسے دور میں داخل ہو جاتا ہے جس میں داخل ہونے کے بعد انسانی عزّت قائم ہو جاتی ہے اُسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جاتی ہے لیکن اگر انسان اس دور میں داخل ہو کر اس دور کی ذمہ داریوں کو نہیں نباہتا اور فطرت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے قہر اور غضب اور نفرت اور حقارت کا مستوجب ٹھہرتا ہے۔اس کے برعکس اگر تمہاری فطرت اگر تمہاری روح اس کو برداشت نہیں کرتی تو پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس سیر روحانی کو شروع کرو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شاہراہ پر قدم بقدم رفعتوں کے حصول کے بعد خدا تعالیٰ کے انتہائی قرب کو پایا وہی راہ ہم سب کے لئے کھلی ہے۔اس راہ پر چل کر ہم بھی اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر سکتے اور اس کے غضب سے بچ سکتے ہیں۔اس راہ کو اختیار کرتے ہوئے ہو سکتا ہے کسی کے حصہ میں اللہ تعالیٰ کا پیار شاید کم آئے اور کسی کے حصہ میں زیادہ لیکن ہر ایک کو خدا تعالیٰ کا پیار میتر آ جاتا اور اس کی رضا حاصل ہو جاتی ہے۔خدا کرے کہ بنی نوع انسان کا ہر فرد اس حقیقت کو سمجھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے انما انا بشر مثلکم کے الفاظ میں جو عظیم الشان اعلان کروایا گیا ہے ہر انسان اس ندا پر کان دھرے اور اپنی زندگی میں ہر لمحہ یہ کوشش کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اس کو حاصل ہو۔روز نامه الفضل ربوہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۱ ، صفحہ ۲ تا ۶ )