خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 819 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 819

خطبات ناصر جلد دوم ۸۱۹ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ ء کوئی وجہ ہونی چاہیے۔خدا تعالیٰ بغیر حکمت کے تو کوئی کام نہیں کرتا اور وہ حکمت یہ ہے کہ جب مٹی کے پتلوں نے احسن تقویم کی شکل کو اختیار کر لیا اور اس میں بلند پروازی کی طاقت رکھ دی گئی تو فرما یا اب تم سیر روحانی شروع کرو اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو تلاش کرو۔تم عاجزانہ رنگ میں کوشش کرتے ہوئے ، ہر وقت خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے ، اپنے آپ پر کوئی فخر نہ کرتے ہوئے ، تکبر کی ہر لعنت سے بچتے ہوئے خدا تعالیٰ کے سامنے جبین نیاز رکھ کر اس کی مدد طلب کرتے ہوئے ، اس سے استغفار کرتے ہوئے ہر غیر سے منہ موڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے سیر روحانی کو شروع کرو اور اپنی اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کو اس کے فضل اور اس کی رحمت کو حاصل کرو۔اگر آپ بشر کو بشر کے مقام سے گرا دیتے ہیں تو آپ اس کو وہ پیغام کس طرح پہنچا سکتے ہیں جو احسن تقویم سے شروع ہو کر انسان کو بلندیوں تک لے جاتا ہے۔بشر کے مقام سے ورے ہمیں سیر روحانی نظر نہیں آتی۔سیر روحانی کا آغاز بشریت کی سطح سے شروع ہوتا ہے اگر آپ ان کو بشر نہیں سمجھتے اور بشر کی حیثیت میں عزت و احترام کا وہ درجہ نہیں دیتے جو خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دیا ہے تو آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام مؤثر طریق پر ان کے کانوں تک کیسے پہنچا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں احسنِ تقویم کی صورت میں پیدا کیا ہے یا یہ کہ تم بشریت کے مقام سے سرفراز ہوئے لیکن تمہاری آخری منزل یہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس غرض کے لئے پیدا نہیں کیا، تمہیں روحانی منزلیں طے کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور ان کی تو کوئی انتہا ہی نہیں کیونکہ جب خدا تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بے انتہا اور وراء الوراء ہے تو ظاہر ہے اس کے قرب کے بھی لامحدود در جے اور منازل ہیں۔کسی بھی مقام پر جا کر وہ ختم نہیں ہوتے۔پس اس نہ ختم ہونے والی منزل پر انسان کا ہر قدم جو پڑتا ہے اور ہر ساعت جو گزرتی ہے وہ اس کی زندگی کی بلکہ سارے انسانوں کی زندگیوں کی ساری لذتوں اور سرور سے زیادہ اچھی ہوتی ہے۔وہ زیادہ خوشی پہنچانے والی ہوتی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کے پیار کی جھلک دنیا کے پیار اور محبت سے کہیں برتر اور اعلیٰ ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیارا اور محبت کا مقابلہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔بہر حال آپ بنی نوع انسان تک یہ پیغام