خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 770
خطبات ناصر جلد دوم 22۔خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء میں کامیاب ہو سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے انسانی طاقتوں کی صحیح نشوونما کے لئے اسے کان دیئے گویا کان کا ایک چشمہ جاری کیا اور جیسا کہ دوسری جگہ سے ہمیں پتہ لگتا ہے یہ چشمہ اپنی پوری روانی کے ساتھ ، اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی وجود مبارک سے نکلا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محض الہام تمہیں میرے قُرب کا وارث نہیں بنا سکتا تھا کیونکہ الہام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا ہے کہ یہ تو شہد کی مکھی کو بھی ہوتا ہے لیکن قرب الہی کا جو مقام انسان کو حاصل ہو سکتا ہے اور عملاً بہت سے انسانوں کو حاصل ہوا اور بالآخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں اپنے عروج کو پہنچا وہ شہد کی مکھی کو تو حاصل نہیں ہوسکتا۔پس فرمایا کہ میں نے تمہارے لئے الہام کا چشمہ جاری کیا ہے لیکن جَعَلَ لَكُمُ الشَّبْعَ والابصار کہ تیرے اندر وہ مطلوبہ طاقت ہونی چاہیے کہ جس رنگ میں تجھے اللہ تعالیٰ کا الہام سنا چاہیے اس رنگ میں سنے اور پھر ساتھ ہی جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو دیکھنا چاہیے اس رنگ میں دیکھے اور پھر اس سے ایک صحیح نتیجہ نکالنے میں کامیاب بھی ہو جائے کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کا راز اسی میں مضمر ہے۔اللہ تعالیٰ کی وحی پر غور کرنے اور اس کی آیات کو دیکھنے کے بعد انسان مختلف منصوبے بناتا ہے بعض منصوبے اس کے دل کے ، جسم سے تعلق رکھتے ہیں ، بعض اس کے ذہن سے تعلق رکھتے ہیں ، بعض اس کے اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض اس کی روحانیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ہم اس وقت اس منصوبہ کی بات کر رہے ہیں جو اس کے جسم سے تعلق رکھتا ہے۔ویسے یہ سارے منصوبے در حقیقت ایک ہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں۔لیکن ہم اس وقت اس کی ایک کڑی یعنی اقتصادی نظام کے متعلق بات کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ فرمایا ہے قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَ مَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ مَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ - فَسَيَقُولُونَ اللهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (یونس: ۳۲) سورہ سجدہ کے شروع میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کو اپنی تدبیر سے احاطہ کئے ہوئے ہے۔اب یہاں یہ فرمایا ہے کہ اس تدبیر کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آسمان اور زمین سے