خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 758 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 758

خطبات ناصر جلد دوم ۷۵۸ خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۶۹ء ہاتھ پاؤں مارنے لگتا ہے تو اگر اس کے آس پاس کوئی کھانا کھا رہا ہو تو اس سے چھینے کی کوشش کرتا ہے۔پھر وہ دوسری غذا کھانی شروع کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری صحت و تندرستی کو بہتر سے بہتر حالت میں رکھنے کے لئے ہر قسم کے سامان مہیا کر دیئے ہیں تمہیں وہ سامان ملنے چاہئیں۔پھر دوسرے ازم دوسرے اقتصادی نظاموں کی طرح اسلام صرف Bare Necessisties of Life یعنی خالی ضرورتوں ہی کا خیال نہیں رکھتا بلکہ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اسلام کا اقتصادی نظام یہ کہتا ہے کہ ہر شخص کو اچھی سے اچھی صحت کے میتر آنے ، اچھی سے اچھی حالت میں ذہن کو برقرار رکھنے بہترین اخلاق کے حاصل کرنے اور روحانیت میں بلند سے بلند تر ہوتے چلے جانے کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ پیدا کی گئی ہیں اور وہ تمہیں ملنی چاہئیں تم ان کی تلاش کرو اور وہ لوگ جو کسی وجہ سے اپنے حقوق لے نہیں سکتے تم ان کے حقوق کو ادا کرو اور دلواؤ۔اسلام نے کم سے کم پر آکر خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ اسلام ہر قوت کو، ہر استعدادکو، ہر قابلیت کو اس کے کمال میں دیکھنا چاہتا ہے اور جب سارے انسان بحیثیت مجموعی اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ اپنی نشو و نما کے کمال کو پہنچ جاتے ہیں تو اسے کمال قرب الہی کا نام دیتا ہے، ایک دنیا دار شخص صرف دنیا کی طاقتوں کو استعمال کرتا ہے، اس کو دنیا مل جاتی ہے لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں صرف دنیوی طاقتیں ہی نہیں دیں ، بلکہ بے شمار جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی اور روحانی قوتیں اور قابلیتیں بھی دی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ تم ان قوتوں اور استعدادوں کو ان کے نشو ونما کے کمال تک پہنچا کر میرا کمال قُرب حاصل کرو۔یہی حقیقی عبادت کی اصل روح اور غرض ہے اور اسی لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔غرض ہم اس مضمون کے اس حصہ کو اس رنگ میں بھی بیان کر سکتے ہیں کہ حقیقی عبادت کا یہ ساتواں تقاضا در اصل اسلام کے اقتصادی نظام کو یہ حسن اور خصوصیت بخشتا ہے کہ جب ہر طاقتور اپنی طاقت کو اس رنگ میں خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو جاتا ہے کیونکہ اسے اپنی طاقت