خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 65 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 65

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن کریم میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ابھی جو فقرہ میں نے پڑھا ہے وہ معنوی لحاظ سے اسی کا ترجمہ ہے۔اللہ تعالیٰ سورۂ دخان : ۵۲ میں فرماتا ہے اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ آمِین کہ متقی یقینا ایک امن والے اور محفوظ مقام میں ہیں تو یہی وہ حصن حصین ہے۔یہی ”امین“ کے معنی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے ہیں کہ محفوظ اور امن میں وہی ہے جو تقویٰ پر مضبوطی سے قائم ہوتا ہے جو تقویٰ پر قائم نہیں وہ امن میں نہیں وہ خطرہ میں ہے وہ حفاظت میں نہیں خوف کی حالت میں ہے اور ایسا شخص مقام امین میں نہیں ہے بلکہ اس مقام پر ہے جسے دوسرے لفظوں میں جہنم کہا جاتا ہے۔پس قرآن کریم نے ہی تقویٰ کے معنوں کو بیان کرتے ہوئے معنوی لحاظ سے حصن حصین کا تخیل پیش کیا ہے کہ سوائے تقویٰ کی راہوں پر چل کر کوئی شخص امن میں نہیں رہ سکتا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اس مضبوط قلعہ میں داخل ہونے کا سوائے تقوی کے دروازے کے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو ایک دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے ہر نیکی خواہ وہ قولی ہو یا فعلی وہ تقویٰ کی جڑ سے نکلتی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو سینکڑوں احکام دیئے ہیں جب ہم ان پر عمل کرتے ہیں اور اس رنگ میں عمل کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ بنیں اور اللہ تعالیٰ کی جنت کے درختوں کی شاخیں ہو جائیں اور ان درختوں کے لئے پانی کا کام دیں تو یہ اسی وقت ہوتا ہے جب یہ شاخیں تقویٰ کی جڑ سے نکلیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام اقوال دراصل قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ تخیل پیش کیا کہ ع ہر اک نیکی کی جڑ یہ انقاء ہے یہ قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيْبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ۔(ابراهیم : ۲۶،۲۵) یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دیکھتے