خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 750 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 750

خطبات ناصر جلد دوم ۷۵۰ خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۶۹ء انتظامیہ کے پیچھے پڑ جائیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کی حالت اقتصادی اور اخلاقی ہر دو لحاظ سے ( یہاں دونوں کا ذکر ہو چکا ہے اتنی گر گئی ہے کہ وہاں کے بعض عظمند لوگ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اگر اس کی اصلاح نہ کی گئی تو ہم تباہی کے گڑھے میں گر جائیں گے۔ویسے اس لحاظ سے وہ قابل رحم بھی ہیں کہ وہ ان بیماریوں میں خود مبتلا نہیں ہوئے بلکہ خفیہ انجمنوں نے بڑی کوشش۔بڑی ہوشیاری سے انہیں ان بیماریوں میں مبتلا کیا ہے۔سکتے پن کی عادت کی وجہ سے ایک اور بنیادی خرابی جنم لیتی ہے اور وہ سفارش ہے۔مثلاً ایک طالب علم دوران سال محنت نہیں کرتا امتحان قریب آتا ہے تو اسے فکر ہوتی ہے میں پاس نہیں ہوسکوں گا چنانچہ جب وہ امتحان کے ہال میں جاتا ہے تو بعض دفعہ چاقو سے سفارش کرواتا ہے ایک دفعہ پنجاب یونیورسٹی کے ایک سنٹر میں جو صاحب امتحان لینے گئے انہوں نے پہلے ہی دن یہ نظارہ دیکھا کہ ہرلڑکے نے ساڑھے پانچ انچ بلیڈ کا سپرنگ والا چاقو کھول کر اپنے اپنے ڈسک پر رکھ لیا اور آرام سے ایک دوسرے سے پوچھ کر اور کتابیں نکال کر پر چھہ حل کرنا شروع کر دیا کہ بیچارے امتحان لینے والے کا بُرا حال ہو گیا وہ ڈر کے مارے کچھ کہہ ہی نہیں سکتا تھا۔اس نے یو نیورسٹی کو رپورٹ کی وہ سنٹر بند ہوا پھر یو نیورسٹی نے ہمارے کالج کو لکھا ( جس سے ہمیں اصل واقعہ کا علم ہوا ) کہ آپ اپنے کالج سٹاف میں سے کوئی ایسا ممبر دیں جو وہاں جا کر دلیری سے امتحان لے یہ تو چاقو کی سفارش تھی پھر پیسے کی سفارش اور اثر و رسوخ کی سفارش الگ ہے۔آخر سفارش کی ضرورت کیوں پڑی؟ سفارش کی ضرورت اس لئے پڑی کہ سفارش کروانے والے مثلاً طالب علم نے اپنی زندگی کے ایک دور میں (جو ہماری مثال میں اس کا امتحان سے پہلے سال دو سال کا دور ہے ) اپنے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرنے کی بجائے گئیں ہانکنے ، یونہی بیکار ہوائی قلعے تعمیر کرنے ، سوئے رہنے اور اسی طرح کی نکما پن کی دوسری عادتوں میں اپنا وقت ضائع کر دیا۔جب امتحان قریب آیا، اس کو فکر پیدا ہوئی، فیل ہو گیا تو بد نامی ہوگی سال مارا جائے گا۔اس کو یہ بھی نظر آ رہا ہوتا ہے کہ شاید سفارش پر اس کو نوکری بھی مل جائے اگر پاس نہ ہوا تو کوئی اور آدمی سفارش کروا کر وہ جگہ لے جائے گا چنانچہ وہ سفارش کروا کر پاس ہونے کی کوشش کرتا ہے۔