خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 741 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 741

خطبات ناصر جلد دوم ۷۴۱ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء تعریف کی ہے اور کسی نظام نے ایسی تعریف نہیں کی۔اسلام کے اقتصادی نظام میں ضرورت سے مراد یہ ہے کہ ہر فرد واحد کے جو حقوق ہیں وہ ادا ہونے چاہئیں اگر وہ ادا نہیں ہوتے تو وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہے اس کے غضب کے نیچے ہیں کیونکہ ان کے اموال میں اللہ تعالیٰ نے دوسروں کا حق رکھا تھا جسے وہ ادا نہیں کر رہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ہر انسان کو جو قوت اور استعداد بخشی ہے اس کی نشو ونما کو اس کے کمال تک پہنچانے کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ اس کا حق ہے عام اقتصادی نظاموں میں کہا جاتا ہے کہ جو ضروریاتِ زندگی ہیں وہ دے دو۔اسلام کہتا ہے کہ نہیں اس سے کام نہیں چلے گا۔دوسرے نظام جب دینے پر راضی بھی ہوتے ہیں تو کم سے کم دینے پر راضی ہوتے ہیں۔اسلام کا اقتصادی نظام کہتا ہے کہ کم سے کم نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ دینا چاہیے یعنی نشو و نما کو کمال تک پہنچانے کے لئے دینا ہے اور اس سے زیادہ کچھ اور ہو نہیں سکتا ورنہ اسراف ہو جائے گا اور اسراف ایسی چیز ہے کہ اس کا حق خدا تعالیٰ نے قائم نہیں کیا۔اسی طرح جو امیر ہے اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَق “ ہم تیرا حق بھی قائم کرتے ہیں کیونکہ تیرے حق کی تعیین یہ ہے کہ تیرے اور تیرے خاندان کے جو قویٰ ہیں، جو طاقتیں اور استعداد میں ہیں ان کو کمال تک پہنچانے کے لئے تمہیں جن چیزوں کی ضرورت ہے ہم تمہیں دیتے ہیں اور جو اس سے زائد ہے اَهلَكْتُ مَالًا تُبدا کے اندر آ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری عیاشیوں کے جو اخراجات ہیں وہ تمہاراحق نہیں کیونکہ تمہاری قوت ، قابلیت، طاقت اور استعداد کی نشو و نما کے لئے ان کی ضرورت نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے امیر کا جو حق تسلیم کیا ہے غریب اس سے چھین نہیں سکتا جیسا کہ اشتراکیت نے ظلم کرتے ہوئے امراء سے ان کا حق چھین لیا۔پس اسلام کے اقتصادی نظام میں امیر کا بھی حق قائم کیا گیا ہے اور غریب کا بھی حق قائم کیا گیا ہے مانگنے کو برا سمجھا اور اپنی بحث میں اس چیز کو نہیں لا یا اور کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے ہر شخص کا حق قائم کیا ہے وہ حق اس کو ملنا چاہیے اگر افراد اس حق کو نہیں دیتے ، اگر وہ طوعی طور