خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 740
خطبات ناصر جلد دوم ۷۴۰ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء خالص عبادت کا تیسر انتقاضا تھا) ممکن نہیں یعنی یہ دونوں تقاضے پورے نہیں ہو سکتے جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم جاری نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے جس بات کا حکم دیا ہے وہ کی جائے اور جس بات سے روکا ہے وہ بات نہ کی جائے اور اقتصادیات میں بھی ( مثلاً ابھی میں نے پانچ آفتوں کا ذکر کیا ہے ) ان آفتوں سے اسی صورت میں بچا جا سکتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرے اگر اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کی جائے اور دین کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے تو دنیا میں ایک حسین اقتصادی نظام قائم ہوجاتا ہے۔جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بھی بتایا تھا اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ جس قسم کے اقتصادی نظام کو وہ قائم کرنا چاہتا ہے وہ ہر اس اقتصادی نظام سے اعلیٰ اور برتر ہے جسے کوئی انسان یا کوئی قوم یا ساری اقوام مل کر بھی دنیا میں قائم کرنا چاہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتصادی نظام میں جہاں تک مستحقین یا محرومین کی ، جن کو حقوق نہیں مل رہے ضرورتیں پوری کرنے کا سوال ہے۔اسلام کسی کی ضرورت کے پورا کرنے کے سوال کو اُٹھا تا ہی نہیں بلکہ ہر ایک کے حق کو ادا کرنے کا سوال اُٹھاتا ہے ان دونوں میں حقیقتا بڑا فرق ہے جو آدمی ضرورت پوری کروانا چاہتا ہے وہ فقیر بن جاتا ہے جیسا کہ آپ نے سفر کرتے ہوئے دیکھا ہوگا کہ جب کسی جگہ بس یا کار یا ریل ٹھہرتی ہے تو بھیک منگا سامنے آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں صبح سے بھوکا ہوں مجھے کچھ کھانے کو دوضرورت اس نے پیش کی بھیک منگا بن گیا نا! پس باقی سارے نظاموں نے محروم کو فقیر اور بھیک منگا بنا دیا ہے پھر دوسری بات یہ بھی ہے کہ ان نظاموں نے ضرورت کا نام بھی لیا مگر اس کی تعریف نہیں کی۔اس کی وضاحت نہیں کی کہ ضرورت سے کیا مراد ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس اقتصادی نظام میں جسے وہ قائم کرنا چاہتا ہے ضرورت کی بجائے حق کے تصور کو پیش کیا ہے یعنی ہر فرد واحد کے جو حقوق ہیں وہ ادا ہونے چاہئیں جس نظام میں ہر ایک کے حقوق ادا نہیں ہوتے وہ نظام درحقیقت غاصب ہے کیونکہ کسی کی صرف ضرورت کا ذکر کر کے اس کے سارے حقوق کو پورا نہ کرنا دراصل اسے محتاج اور فقیر اور بھیک منگا بنانے کے مترادف ہے اس کے مقابلہ میں اسلام کے اقتصادی نظام نے نہ صرف ضرورت کو تسلیم کیا ہے بلکہ ہر شخص کے اصل حق پر زور دیا ہے اور ضرورت کی بڑی لطیف