خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 739
خطبات ناصر جلد دوم ۷۳۹ خطبہ جمعہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء سے کہا کہ جن کو میں نے ان کے نفس کے حقوق سے زائد ( یعنی ہر ایک کے نفس کے بھی تو کچھ حقوق ہیں دیا ہے وہ ان کا نہیں ہے۔میرے کہنے پر میری ہدایت پر عمل کرتے ہوئے میری رضا کے حصول کے لئے میری محبت کو پانے کے لئے اس زائد مال کو ان لوگوں کو دے دو جن کے حقوق کو میں نے اسلامی شریعت میں قائم کیا ہے کیونکہ اس طرح تم میری نگاہ میں عزت کو حاصل کر لو گے۔پس ہر قسم کی غربت کو دور کرنے اور ہر قسم کی غلامی سے انسان کو چھڑانے کے لئے تھوڑا یا بہت مال حق کی ادائیگی میں خرچ کئے جانے کا اسلام نے حکم دیا ہے۔اسلام میں اس کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں تم میری رضا کو حاصل کر سکو گے۔لیکن اگر یہ دو مقاصد مد نظر نہ ہوں حق کی ادائیگی سامنے نہ ہو بلکہ صرف یہ خیال ہو کہ اگر میں نمائش کے طور پر مال کو خرچ کروں گا تو دنیا میں میری واہ واہ ہوگی اور دنیا کی بصارت و بصیرت سے محروم آنکھ مجھے غلط قسم کی عزت دے دے گی تو یاد رکھنا چاہیے کہ نمائش کی غرض سے مال کے خرچ کرنے کے نتیجہ میں انسان کو کبھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی۔اسی طرح نفس کی اور بہت سی آفات ہیں جن کا اثر با لواسطہ یا بلا واسطہ اسلام کے اقتصادی نظام پر پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے نفس کی ہر آفت کا ذکر قرآنی تعلیم میں کیا ہے اور اس سے بچنے کا حکم بھی دیا ہے۔اور ساتھ ہی اس سے بچنے کا طریق بھی بتایا ہے قرآن کے تمام نواہی یعنی یہ نہیں کرنا۔یہ نہیں کرنا وغیرہ کا تعلق اسی سے ہے۔ان آفات نفس کا تعلق چونکہ انسانی زندگی کے ساتھ ہے اور چونکہ اقتصادیات بھی انسانی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔اس لئے اقتصادیات سے بھی ہے۔چند موٹی موٹی آفات نفس اور نفس امارہ کے میلان جو نمایاں طور پر اقتصادیات پر اثر انداز ہوتے ہیں ان کا میں نے اس وقت ذکر کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کا قائم کردہ اقتصادی نظام سرمایہ داری یا اشتراکیت کے قائم کردہ اقتصادی نظام سے بہت مختلف ہے۔اللہ تعالیٰ نے ”مُخْلِصِينَ لَهُ الذِينَ ،، میں خالص اور حقیقی عبادت کا پانچواں تقاضایہ بتایا تھا کہ احکام یعنی اوامرو نوا ہی خالصہ اللہ ہوں اوامر کی پیروی کی جائے اور نواہی سے بچا جائے۔در اصل آفات نفس سے بچنا اور اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا رنگ اپنے اوپر چڑھانا ( جو اللہ تعالیٰ کی