خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 708
خطبات ناصر جلد دوم 2۔1 خطبہ جمعہ ۲۷ جون ۱۹۶۹ء سورہ فاتحہ میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے (جس کو یہ لوگ بھول جاتے ہیں اور پھر اقتصادی ضرورت پوری نہیں ہوتی ) کہ مزدور کی مزدوری صحیح طور پر مل جائے تب بھی اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں۔کیونکہ اس صورت میں تو صرف صفت رحیمیت کے جلوے کافی ہو جاتے کہ جتنا کسی نے کام کیا اتنا اس کومل گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے کہا کہ رب کا جلوہ، رحمان ہونے کا جلوہ اور مالک ہونے کا جلوہ جو ہے وہ بھی ساتھ ساتھ ہونا چاہیے تب جا کر مزدور کی ضرورت کما حقہ پوری ہوتی ہے اور اسے اس کا پورا حق ملتا ہے۔مزدور کی ضرورت کیا ہے؟ میرا دعوی ہے کہ اسلام کے سوا کوئی اور اس کا صحیح جواب نہیں دے سکتا اس سوال کا جواب کسی بھی ازم نے کسی بھی اقتصادی نظام نے نہ دیا ہے اور نہ دے سکتا ہے اسلام نے اس کا جواب دیا ہے اور اسلام ہی دے سکتا تھا۔اسلام نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ہر مزدور ہر فرد بشر کی ضرورت کی تعیین اس کی قوتیں اور استعدادیں کرتی ہیں۔پس اس کی قوت اور استعداد کی نشوونما کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے دراصل وہ اس کی ضرورت ہے اور وہی اس کا حق ہے۔اسلام نے ضرورت کی یہ تعریف کی ہے اور چونکہ بعض Units افراد کے مجموعہ کے ہوتے ہیں اس لئے ہم کہیں گے ہر فردکو، ہر خاندان کو اور ہر قوم کو ( کیونکہ بین الاقوامی معاشرہ اور نظام جو ہے اس پر بھی یہ اصول اثر انداز ہوتا ہے ) وہ سب کچھ ملنا چاہیے کہ جو اس قوت اور استعداد کے مطابق ہو جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے تاکہ اس کی صحیح نشو ونما ہو سکے یہ اس کی ضرورت اور حق ہے اور یہ تعریف آپ کو کہیں اور نہیں ملے گی۔بہر حال اللہ تعالیٰ رحیمیت کے ماتحت کہتا ہے کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میری سچی اور حقیقی عبادت کرو تو تمہاری زندگی میں دوسروں سے سلوک کرتے ہوئے میری رحیمیت کے جلوے، میری ظلیت میں نظر آنے چاہئیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مزدور کو جو اُجرت پر کام کر رہا ہے (دہاڑی پر ہو یا ہفتہ وار یا مہینہ یا سال کے بعد یا چھ ماہ کے بعد مختلف شکلوں میں دنیا میں اُجرتوں کی ادائیگی ہمیں نظر آتی ہے) اسے پوری اُجرت ملنی چاہیے بالفاظ دیگر اسلام یہ کہتا ہے کہ تمہاری اقتصادی زندگی میں میری رحیمیت کے جلوے نظر آنے چاہئیں کسی شخص کو اس کی اجرت کے حق سے کم نہ دیا جائے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اس کی ضرورت پھر بھی بہت سے حالات میں پوری نہیں ہوگی