خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 709 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 709

خطبات ناصر جلد دوم 2+9 خطبہ جمعہ ۲۷ جون ۱۹۶۹ء باقی ماندہ ضرورتوں کا اللہ تعالیٰ نے علیحدہ انتظام کیا ہے۔لیکن بہر حال رحیمیت کے جلوے کا یہ تقاضا ہے کہ اُجرت کا جتنا کسی کا حق بنتا ہے اس سے کم نہ ملے۔پھر مالک ہونے کا خُلق ہے۔انسان حقیقی رنگ میں تو کسی چیز کا مالک نہیں حقیقی مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی ظلیت میں اسے مالک بھی بنا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ انسان کو کہتا ہے کہ ساری دنیا کی چیزوں کا ہوں تو میں ہی مالک لیکن جس حد تک میں نے تمہیں طاقت دی ہے اس حد تک میری ظلیت میں مالک ہونے کی صفت اپنے اندر پیدا کرو اور یہ جو تفاوت استعداد کے نتیجہ میں کثرت اموال کی پیدائش ہوتی ہے اس کی صحیح تقسیم مالک ہونے کے بغیر نہیں ہوسکتی۔جس طرح اللہ تعالیٰ مالک ہے اس کی ظلیت میں ہم نے جو کچھ لیا ہے ہمیں اپنے اخلاق اور اعمال میں اسی مالک ہونے کا جلوہ نظر آنا چاہیے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہے تو میرا (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جائز طریقے سے ، حلال طریقے سے تم نے کمایا ہوا ہے ) لیکن مالکیت کے جلوے اس کی تقسیم میں نظر آئیں گے ایک صحابی کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ ایک لاکھ اونٹ خریدے ایک اور دوست آگئے انہوں نے کہا اسی قیمت پر میرے ساتھ سودا کر لو انہوں نے کہا منظور ہے لیکن ایک شرط پر کہ ہر اونٹ کی نکیل مجھے دے دو کہتے ہیں کہ نکیل کی قیمت اس وقت ایک ٹھتی تھی چنانچہ انہوں نے دومنٹ کے اندر پچاس ہزار روپیہ کما لیا بعض لوگوں کے روشن ذہن اس طرح پر کام کرتے ہیں وہ جائز کمائی تھی ہمارے وہ بزرگ صحابی عجیب انسان تھے ویسا ہی ہر انسان کو بننا چاہیے۔جس وقت وہ پچاس ہزار روپیہ گھر میں لائے تو انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ میں اس کا مالک ہوں انہوں نے سوچا کہ حقیقی مالک تو اللہ تعالیٰ ہے اس نے مجھے ایسی عقل دی کہ میں نے ایک دومنٹ کے سودے میں پچاس ہزار روپیہ کما لیا اور اب میں دیکھوں گا خدا تعالیٰ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتا ہے میں اسے کہاں اور کیسے خرچ کروں یہ وہ طریق ہے جس کے مطابق ہر مسلمان کو خرچ کرنا چاہیے اور اس طرز پر اسلامی مملکت کا منصوبہ بننا چاہیے۔یعنی مال حلال کمانے کی آزادی اور خرچ کرنے پر اسلامی پابندیاں اور جیسے اسلام کہتا ہے ویسے ہی حقوق کی کما حقہ ادا ئیگی۔پس مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں دین کے تیسرے معنی کے لحاظ سے عبادت کا تیسرا مطالبہ یہ