خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 699 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 699

خطبات ناصر جلد دوم ۶۹۹ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ان کے لئے چرس مہیا کی جائے حالانکہ یہ ایک بڑی خطرناک چیز ہے لیکن انگلستان اور یورپ کے دوسرے ممالک میں بڑی کثرت سے اس کی عادت پڑ گئی ہے یہ ایک اقتصادی مسئلہ بھی ہے آیا یہ چیز پیدا کرنی ہے یا نہیں اور اگر تقسیم کرنی ہے تو کس طرح اسی طرح اس کی قیمتوں وغیرہ سے متعلق بیبیوں سوالات ہیں جو نظام اقتصادیات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا قائم کردہ اقتصادی نظام اس مطالبہ کورڈ کر دے گا۔اللہ تعالیٰ نے عبادت کے دوسرے تقاضے میں فرمایا تھا کہ اقتصادیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی بات ماننی ہے کسی اکثریت یا کسی مؤثر اقلیت کی بات نہیں مانی پچھلے خطبہ میں میں نے بین الاقوامی قرضوں کا ذکر کیا تھا آج میں نے دوسری مثال بیان کر دی ہے۔غرض توحید عملی کا جہاں تک حقوق اللہ کے ساتھ تعلق ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اخلاص سے کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کسی غیر کو شریک نہیں کرنا یہ نہیں ہوسکتا کہ بعض باتوں میں تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر لی اور بعض باتوں میں کسی غیر اللہ کی اطاعت کر لی اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹھکرادیا ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ مبدء فیوض ہے اس لئے اپنی بہبود کے لئے ، اپنی ترقی کے لئے ، اپنی خوشحالی کے لئے ، اپنی تکالیف کو دور کرانے کے لئے اس سے دعا مانگیں۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو اس قابل ہی نہ سمجھیں کہ وہ ان ضرورتوں کو اللہ تعالیٰ کی منشا اور مرضی کے بغیر یا اللہ تعالیٰ کے منشا کے خلاف پورا کر سکتا ہے اس واسطے ہر وقت اس پر نظر رکھنا اور اس کی محبت میں کھوئے رہنا یہ حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والی توحید عملی ہے۔پھر نفس کا حق ہے تو حید علمی جو حقوق نفس سے تعلق رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ نفس کو پہچانا۔جس طرح توحید علمی اللہ تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھنے والی یہ تھی کہ اس کی ذات اور صفات کی معرفت اور عرفان کو حاصل کرنا۔توحید علمی حقوق نفس سے تعلق رکھنے والی یہ ہے کہ اپنے نفس کے حقوق کو پہچاننا اور جونفس کی آفات ہیں اور جو نفس اتارہ کے رزائل ہیں ان سے ہر وقت مطلع اور چوکس رہنا کہ کہیں ان کی وجہ سے ہلاکت کے سامان نہ پیدا ہو جائیں کیونکہ یہ جو نفس کی کمزوریاں نفس کی آفات، نفس اتارہ کی بد خصلتیں ہیں اور نفس کی جو بیماریاں ہیں ان کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی وحدت