خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 700 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 700

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء اور اس کی توحید سے دور چلا جاتا ہے اور توحید کے تقاضے پورا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔اب جو نفس کی بیماریاں ہیں ان میں ہمیں نظر آتا ہے کہ عجب ہے، ریا ہے، تکبر ہے، کینہ ہے، حسد ہے، غرور ہے ، حرص ہے ، بخل ہے، غفلت ہے اور ظلم ہے بہت سارے اخلاق رذیلہ ہیں۔پس انسان کو ان کا علم ہونا چاہیے اور اس کے Conscious Mind میں ہر وقت یہ رہنا چاہیے کہ میرانفس بڑا کمزور ہے میرے نفس میں جو قسم قسم کی بدخواہشات پیدا ہوتی ہیں میں نے ان کی طرف نہیں دیکھنا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہر وقت نگاہ رکھنی ہے۔یہ توحید علمی حق نفس سے تعلق رکھتی ہے۔جب انسان کو یہ علم حاصل ہو جائے کہ میرے نفس میں کیا کیا کمزوریاں ہیں اور میرانفس مجھے کن ہلاکتوں کی طرف لے جاتا ہے اور ان سے بچنے کا کیا سامان ہے تو اس سے ایک ہی ذات کی عظمت ثابت ہوتی ہے جس میں کوئی عیب نہیں اور جو اپنی ذات میں واحد و یگانہ ہے ہر آدمی جب اپنے نفس کو ٹٹولے اور اس کا مطالعہ کرے اور اس کی آفات اور کمزوریوں سے آگاہ ہو تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ دنیا میں ہر مخلوق عیوب سے پر اور نقائص سے بھری ہوئی ہے ایک ہی ذات بے عیب ہے اور تمام عیوب سے منزہ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہ توحید علمی ہے یعنی اپنے نفس کے علم نے ہمیں بتایا کہ خدا تعالی واحد و یگانہ ہے، اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی کیونکہ ہم نے گردن کو جھکا یا ، پھر دل اور سینہ پر نگاہ ڈالی، جس میں ہزار کیڑے نظر آئے ، ہزار نقائص نظر آئے ان برائیوں نے ان کمزوریوں نے ، ان نقائص نے ، ان عیوب نے جھنجھوڑ کر اس طرف متوجہ کیا ہے کہ تمام عیوب سے پاک خدائے واحد و یگانہ ہی کی ذات ہے۔ہمیں توحید علمی سے جہاں تک حق نفس کا تعلق تھا اقتصادیات کے میدان میں یہ پتہ لگا کہ اگر ہم حرص سے کام لیں گے ، اگر ہم بخل سے کام لیں گے اگر ہم ظلم سے کام لیں گے تو وہ نظام قائم نہیں ہو سکے گا جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔بخل اور حرص سے ہم کام لیں گے تو جو غیر کا حق ہے وہ اس کو دینے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔میں نے پہلے بتایا تھا کہ یہ جو ہر قسم کا تفاوت انسانوں میں پایا جاتا ہے جس میں دولت کا تفاوت بھی ہے یہ اس لئے نہیں کہ دولت مند خدا تعالیٰ کی نگاہ میں معزز ہے اور کریم ہے بلکہ اس لئے ہے کہ