خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 661
خطبات ناصر جلد دوم ۶۶۱ خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۶۹ء نہیں ہیں۔پس رَحمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا اعلان کیا کہ اسلام کا نظام سب دیگر نظاموں سے ارفع اور اعلیٰ ہے جس میں سب انسانوں کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے اور کسی کی بھی حق تلفی نہیں ہوتی اس کے برعکس دنیا کے سب دوسرے نظام ناقص اور انسانی حقوق کی حفاظت سے قاصر اور کسی نہ کسی رنگ میں ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہیں۔ہم مختلف اقتصادی نظاموں پر جب نگاہ ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ دنیا میں اصولی طور پر دو قسم کے نظام ہیں۔ایک نظام وہ ہیں جن کی بنیاد مذہب پر رکھی گئی ہے اور ایک نظام وہ ہیں جن کی بنیاد لامذہبیت پر رکھی گئی ہے جن نظاموں کی بنیاد بظاہر مذہب پر رکھی گئی ہے وہ بھی ظالمانہ ہیں۔اس وقت میں کسی مذہب کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن ایک مذہب جس کے ماننے والے اس وقت دنیا میں بڑا ہی اثر اور رسوخ رکھتے ہیں اس میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص تیرے مذہب سے تعلق نہیں رکھتا اس کا مال غصب کرنا خواہ وہ کسی ذریعہ سے ہو کسی حیلہ سے ہو جائز ہے یہ ان کا ایک اقتصادی اصول ہے۔اقتصادیات میں پیداوار کے مسائل میں کہ چیزیں کس طرح پیدا کی جاسکتی ہیں یا تقسیم پیداوار کے مسائل میں کہ آگے ان چیزوں کو کس طرح سب میں تقسیم کرنا چاہیے اس مذہب کے اقتصادی نظام کی بنیا داس بات پر ہے کہ جو تیرے مذہب کو مانتا نہیں اس کا مال کھانا جائز ہے۔اسی طرح بعض دوسرے مذاہب ہیں وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور شرمندگی کے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے مذہب کا یہ اصول ہے کہ جس شخص کا ہمارے مذہب کے اس حصہ سے تعلق ہے جو ہمارے نزدیک بڑا ذلیل اور حقیر ہے اور باوجودیکہ اس کا تعلق ہمارے مذہب کے ساتھ ہے ہمارے مذہب نے اس کے کوئی حقوق تسلیم نہیں کئے۔ان کا مال کھا لینا جائز ہے۔غرض اقتصادی نظام کی بنیاد اسلام سے باہر چاہے مذہب پر ہو تب بھی ہمیں ظالمانہ نظر آتی ہے۔کم از کم وہ ایسی نظر نہیں آتی جو تمام انسانوں کے اقتصادی حقوق کی حفاظت کرنے والی ہو۔۔دوسری قسم کا اقتصادی نظام ہمیں وہ نظر آتا ہے جو لا مذہبیت کی بنیاد پر قائم ہے اور اس کی دو نمایاں شکلیں ہمارے سامنے ہیں ایک کو ہم سرمایہ داری“ کا نام دیتے ہیں اور ایک کو ہم اشتراکیت کا نام دیتے ہیں۔یہ دونوں اقتصادی نظام لا مذہبیت کی بنیادوں پر قائم ہیں یعنی