خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 649
خطبات ناصر جلد دوم ۶۴۹ خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۶۹ء کہ آج سے چند سال پہلے اسلام کے خلاف اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف منکرین اسلام کس طرح متکبرانہ غزاتے تھے اور آج وہی لوگ ہیں جو احمدی مربیوں اور مبلغوں سے بات کرتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں اور بات کرنے سے کتراتے ہیں اور تحریک جدید کے کام کا یہ حصہ جو ایک نمایاں خصوصیت کے رنگ میں ہمیں نظر آتا ہے اس کے ساتھ یہ کام بھی ہوا ہے کہ ان ممالک میں قرآن کریم اور اس کی تفسیر کی بڑی کثرت سے اشاعت کی گئی ہے لیکن ابھی بہت روپے کی ضرورت ہے۔ابھی بڑے فدائی مبلغوں کی ضرورت ہے۔ابھی بڑی دعاؤں کی ضرورت ہے ابھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے بڑے مجاہدہ کی ضرورت ہے تا کہ ہم انتہائی اور آخری کامیابی دیکھ سکیں لیکن جو کام ہوا ہے وہ بھی معمولی نہیں۔تراجم ہو گئے۔اسلامی تعلیم سے واقفیت ہو گئی۔تفسیر پڑھنے لگے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یورپ کے ملکوں میں رہنے والے ہمارے احمدی بھائیوں سے اگر آپ کسی مسئلہ پر بات کریں تو وہ شاگرد کی طرح سامنے نہیں بیٹھے ہوتے بلکہ اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ قرآن کریم کی کوئی آیت یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پیش کر کے آپ کی بات کو رڈ کرتے ہیں۔غرض انہوں نے اسلام اور احمدیت کو علی وجہ البصیرت قبول کیا ہے اور اس سے ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت پیدا ہوئی۔بڑے شوق سے علم قرآن کو سیکھا اور اب وہ بڑے دھڑلے کے ساتھ ہر جگہ اسلام کی تعلیم اور قرآن کریم کے علوم کو پیش کرتے ہیں اور خدا کے فضل سے غالب آتے ہیں۔پس قرآن کریم کے تراجم اور تفسیر کی اشاعت یہ بھی ایک نمایاں کام ہے جو تحریک جدید کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مخلصین جماعت سے لیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ہم ہمیشہ ہی بھوکے ہیں اور کسی مقام پر دل تسلی نہیں پکڑتا کیونکہ غیر متناہی ترقیات کے دروازے ہم پر کھولے گئے ہیں۔ہر نئے دروازے میں داخل ہونے کے بعد اس سے اگلے دروازے میں داخل ہونے کو ضرور دل چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کو ہی (اگر وہ مسخ نہ ہو چکی ہو ) ایسا بنایا ہے۔بہر حال ہمیں ترقی کے میدان آگے نظر آ رہے ہیں (اللہ کی رحمت سے ) اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نہ مٹنے والے نشان ہمیں پیچھے نظر آرہے ہیں۔تحریک جدید کی یہ ایک نمایاں خصوصیت