خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 647
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۶۹ء تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھیں اور اُن الہی برکتوں کا احساس کریں جو اُس کے نتیجہ میں ہمیں حاصل ہوئی ہیں خطبه جمعه فرموده ۲۳ رمئی ۱۹۶۹ ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔چند دن سے مجھے سردرد کی تکلیف تھی لیکن کل یہ تکلیف بہت شدت اختیار کر گئی۔اس وقت کچھ افاقہ ہے۔میں اس وقت مختصراً جماعت کو ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ تحریک جدید کے چندوں کے وعدے اور ان کی ادائیگی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کی شکل میں اپنی ایک عظیم یادگار چھوڑی ہے اور اس کے جو نمایاں پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں ان میں سے ایک نمایاں پہلو تو تربیت جماعت کا ہے۔آپ ایک لمبا عرصہ اسلام کی ضروریات جماعت کے سامنے رکھ کر جماعت کو آہستہ آہستہ تربیت اور قربانی اور ایثار کے میدانوں میں آگے سے آگے لے جاتے چلے گئے۔دوسرا نمایاں پہلو ( جس وقت تحریک شروع ہوئی تھی اس وقت تو پاکستان نہیں تھا۔پاک و ہند اگر کہہ دیا جائے تو دونوں زمانوں کی طرف اشارہ ہو جائے گا ) پاک و ہند سے باہر جماعتوں کا قیام ہے۔۱۹۳۴ء میں جب یہ تحریک شروع ہوئی تھی۔بیرون پاک و ہند بہت کم جماعتیں تھیں۔ایک آدھ ملک میں کچھ لوگ احمدیت سے متعارف اور اس کی حقانیت کے قائل تھے۔لیکن تحریک جدید