خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 646 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 646

خطبات ناصر جلد دوم ۶۴۶ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء کے ارشاد کے ماتحت اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور کریں کہ واقعی مسلمان بنی نوع انسان کا خادم ہوتا ہے۔اگر آپ اسلام کے خادم ہونے کی حیثیت میں بنی نوع انسان کو یہ تسلیم کروا دیں کہ اسلام کا خادم بنی نوع انسان کا خادم ہوتا ہے تب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان احسانوں کو سمجھنے لگیں گے جو واقعہ آپ نے ان پر کئے ہیں اور جن کو وہ اس وقت سمجھتے نہیں اور جس کے بغیر محبت اور پیار کا وہ تعلق قائم نہیں ہو سکتا جو بنی نوع انسان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونا چاہیے۔پس خدام الاحمد یہ روح خدمت کے ماتحت اپنے پروگراموں پر عمل کریں اور انصار اللہ روح تربیت کو زندہ رکھتے ہوئے اپنے پروگرام پر عمل کریں۔روح تربیت بھی روح خدمت ہی ہے صرف اس کی شکل بدلی ہوئی ہے۔اس لئے ہر دو تنظیمیں اس طرح بنی نوع انسان کی خدمت میں لگ جائیں اور لگی رہیں کہ اپنے نفسوں کا بھی خیال رکھیں، اپنے رشتہ داروں اور عزیز واقارب کا بھی خیال رکھیں ، پھر یہ دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے یہاں تک کہ وہ تمام بنی نوع انسان کو اپنے اندر سمیٹ لے اور خدا کے نام پر اسلام کی اشاعت میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بنی نوع انسان کے دل میں پیدا کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو ہر وقت تیار رہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کے نبھانے کی توفیق عطا کرے۔اہل ربوہ کو نماز باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا کرے اور ذمہ دار دوستوں کو ان کی نگرانی کی توفیق عطا کرے۔فضل عمر فاؤنڈیشن میں جماعت کے دوستوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو وعدے لکھوائے ہیں وہ ان کی ادائیگی کر دیں تا وہ بہترین جزا کے وارث بنیں۔انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ تکبر اور ریا کے بغیر اپنے اپنے پروگرام اور دائرہ کے اندر بے نفس اور بے لوث خدمت کرنے والے ہوں کہ اللہ کی توفیق سے ہی سب نیکیوں کی تو فیق عطا ہوتی ہے اور اللہ کے فضلوں سے ہی نیکیوں اور اعمالِ صالحہ کے نیک انجام نکلتے ہیں۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۴ رمئی ۱۹۶۹ء صفحه ۳ تا ۷ )